(۲۰۳۰۳) أَخْبَرَنَا أَبُو الْقَاسِمِ عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ عُبَیْدِ اللَّہِ الْحُرْفِیُّ بِبَغْدَادَ حَدَّثَنَا حَمْزَۃُ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ الْعَبَّاسِ حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ غَالِبٍ حَدَّثَنَا مُوسَی بْنُ مَسْعُودٍ حَدَّثَنَا عِکْرِمَۃُ بْنُ عَمَّارٍ عَنْ أَبِی زُمَیْلٍ عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ عَنْ عُمَرَ بْنِ الْخَطَّابِ رَضِیَ اللَّہُ عَنْہُ قَالَ : لَمَّا کَانَ یَوْمُ بَدْرٍ قَالَ مَا تَرَوْنَ فِی ہَؤُلاَئِ الأَسْرَی فَقَالَ أَبُو بَکْرٍ رَضِیَ اللَّہُ عَنْہُ یَا نَبِیَّ اللَّہِ بَنُو الْعَمِّ وَالْعَشِیرَۃُ وَالإِخْوَانُ غَیْرَ أَنَّا نَأْخُذُ مِنْہُمُ الْفِدَائَ لِیَکُونَ لَنَا قُوَّۃً عَلَی الْمُشْرِکِینَ وَعَسَی اللَّہُ أَنْ یَہْدِیَہُمْ إِلَی الإِسْلاَمِ وَیَکُونُوا لَنَا عَضُدًا۔ قَالَ : فَمَاذَا تَرَی یَا ابْنَ الْخَطَّابِ؟ قُلْتُ : یَا نَبِیَّ اللَّہِ مَا أَرَی الَّذِی رَأَی أَبُو بَکْرٍ وَلَکِنْ ہَؤُلاَئِ أَئِمَّۃُ الْکُفْرِ وَصَنَادِیدُہُمْ فَقَرِّبْہُمْ فَاضْرِبْ أَعْنَاقَہُمْ قَالَ فَہَوِیَ رَسُولُ اللَّہِ -ﷺ- مَا قَالَ أَبُو بَکْرٍ رَضِیَ اللَّہُ عَنْہُ وَلَمْ یَہْوَ مَا قُلْتُ أَنَا وَأَخَذَ مِنْہُمْ الْفِدَائَ فَلَمَّا أَصْبَحْتُ غَدَوْتُ عَلَی رَسُولِ اللَّہِ -ﷺ- وَإِذَا ہُوَ وَأَبُو بَکْرٍ رَضِیَ اللَّہُ عَنْہُ قَاعِدَانِ یَبْکِیَانِ فَقُلْتُ یَا نَبِیَّ اللَّہِ أَخْبِرْنِی مِنْ أَیِّ شَیْئٍ تَبْکِی أَنْتَ وَصَاحِبُکَ فَإِنْ وَجَدْتُ بُکَائً بَکَیْتُ وَإِلاَّ تَبَاکَیْتُ لِبُکَائِکُمَا قَالَ : الَّذِی عَرَضَ عَلَیَّ أَصْحَابُکَ لَقَدْ عُرِضَ عَلَیَّ عَذَابُکُمْ أَدْنَی مِنْ ہَذِہِ الشَّجَرَۃِ ۔وَشَجَرَۃٌ قَرِیبَۃٌ حِینَئِذٍ فَأَنْزَلَ اللَّہُ عَزَّ وَجَلَّ {مَا کَانَ لِنَبِیٍّ أَنْ یَکُونَ لَہُ أَسْرَی حَتَّی یُثْخِنَ فِی الأَرْضِ تُرِیدُونَ عَرَضَ الدُّنْیَا وَاللَّہُ یُرِیدُ الآخِرَۃَ وَاللَّہُ عَزِیزٌ حَکِیمٌ} [الأنفال ۶۷]
أَخْرَجَہُ مُسْلِمٌ فِی الصَّحِیحِ مِنْ حَدِیثِ عِکْرِمَۃَ بْنِ عَمَّارٍ۔ [صحیح۔ مسلم ۱۷۳۶]
(٢٠٣٠٣) ابن عباس حضرت عمر بن خطاب (رض) سے نقل فرماتے ہیں کہ جب بدر کا دن تھا تو آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا : قیدیوں کے بارے میں تمہارا کیا خیال ہے ؟ ابوبکر (رض) نے فرمایا : اے اللہ کے نبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) ! چچاؤں کے بیٹے، قبیلے کے لوگ، بھائی ہیں۔ ہم ان سے جزیہ لے کر چھوڑ دیں، تاکہ مشرکین کے خلاف قوت حاصل ہوجائے۔ ممکن ہے اللہ ان کو اسلام کی ہدایت نصیب فرما دے۔ آپ نے فرمایا : اے ابن خطاب (رض) ! تمہارا کیا خیال ہے ؟ میں نے کہا، جو ابوبکر کا خیال ہے وہ میرا نہیں۔ یہ کفار کے سردار اور امام ہیں۔ ان کی گردنیں مارو۔ لیکن نبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے ابوبکر صدیق (رض) کا مشورہ پسند کیا۔ میرے مشورے کی طرف مائل نہ ہوئے۔ آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے ان سے فدیہ لے لیا۔ جب صبح ہوئی میں نبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے پاس گیا تو نبی اور ابوبکر (رض) بیٹھے رو رہے تھے۔ میں نے کہا : اے اللہ کے نبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) ! آپ کو اور آپ کے ساتھی کو کس چیز نے رلایا۔ اگر رونے والی بات ہے تو میں بھی رو لیتا ہوں، وگرنہ آپ کے رونے کی وجہ سے رو لیتا ہوں ؟ فرمایا : وہ مشورہ جو آپ کے ساتھیوں نے دیا۔ اس کی وجہ سے میرے اوپر عذاب پیش کیا گیا۔ جو اس درخت سے بھی زیادہ قریب تھا اور درخت بہت زیادہ قریب تھا تو اللہ نے نازل فرما دیا : { مَا کَانَ لِنَبِیٍّ اَنْ یَّکُوْنَ لَہٗٓ اَسْرٰی حَتّٰی یُثْخِنَ فِی الْاَرْضِ تُرِیْدُوْنَ عَرَضَ الدُّنْیَا وَ اللّٰہُ یُرِیْدُ الْاٰخِرَۃَ وَ اللّٰہُ عَزِیْزٌ حَکِیْمٌ ۔} [الأنفال ٦٧]” کسی نبی کے لیے مناسب نہیں کہ اس کے پاس قیدی ہوں تو خونریزی کیے بغیر چھوڑ دے۔ تم دنیا کا مال چاہتے ہو اور اللہ آخرت کا ارادہ رکھتے ہیں اور اللہ غالب حکمت والا ہے۔ “