(۲۰۳۲۶) أَخْبَرَنَا أَبُو جَعْفَرٍ مُحَمَّدُ بْنُ أَحْمَدَ بْنِ جَعْفَرٍ الْقِرْمِیسِینِیُّ بِہَا أَنْبَأَنَا أَبُو الْحُسَیْنِ مُحَمَّدُ بْنُ إِبْرَاہِیمَ الْکُہَیْلِیُّ أَنْبَأَنَا الْحَضْرَمِیُّ حَدَّثَنَا اللَّیْثُ بْنُ ہَارُونَ أَبُو عُتْبَۃَ الْعُکْلِیُّ حَدَّثَنَا زَیْدُ بْنُ حُبَابٍ عَنْ عُمَرَ بْنِ عُثْمَانَ بْنِ عَبْدِ اللَّہِ بْنِ سَعِیدٍ وَکَانَ اسْمُہُ الصُّرْمَ فَسَمَّاہُ رَسُولُ اللَّہِ -ﷺ- سَعِیدًا قَالَ حَدَّثَنِی جَدِّی قَالَ: کَانَ عُثْمَانُ رَضِیَ اللَّہُ عَنْہُ إِذَا جَلَسَ عَلَی الْمَقَاعِدِ جَائَ ہُ الْخَصْمَانِ فَقَالَ لأَحَدِہِمَا اذْہَبْ ادْعُ عَلِیًّا وَقَالَ لِلآخَرِ اذْہَبْ فَادْعُ طَلْحَۃَ وَالزُّبَیْرَ وَنَفَرًا مِنْ أَصْحَابِ النَّبِیِّ -ﷺ- ثُمَّ یَقُولُ لَہُمَا تَکَلَّمَا ثُمَّ یُقْبِلُ عَلَی الْقَوْمِ فَیَقُولُ مَا تَقُولُونَ فَإِنْ قَالُوا مَا یُوَافِقُ رَأْیَہُ أَمْضَاہُ وَإِلاَّ نَظَرَ فِیہِ بَعْدُ فَیَقُومَانِ وَقَدْ سَلَّمَا۔ [ضعیف]
(٢٠٣٢٦) عمر بن عثمان فرماتے ہیں کہ مجھے میرے دادا نے بیان کیا کہ جب حضرت عثمان (رض) مسند پر بیٹھے تو ان کے پاس دو آدمی جھگڑا لے کر آئے۔ انھوں نے ایک سے کہا : حضرت علی (رض) کو بلا کر لا۔ دوسرے سے فرمایا : طلحہ، زبیر، اور نبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے صحابہ کے ایک گروہ کو لے کر آؤ۔ پھر ان دونوں سے فرمایا : کہو۔ پھر لوگوں کی طرف متوجہ ہوئے اور فرمایا : تم کیا کہتے ہو ؟ اگر ان کی رائے ان کے موافق ہوئیتو فیصلہ فرما دیا وگرنہ ان کی طرف دیکھتے وہ دونوں کھڑے ہوتے اور مصافحہ کرلیتے۔