(۲۰۳۴۷) حَدَّثَنَا أَبُو طَاہِرٍ الْفَقِیہُ إِمْلاَئً وَقِرَائَ ۃً أَنْبَأَنَا أَبُو حَامِدِ بْنُ بِلاَلٍ حَدَّثَنَا یَحْیَی بْنُ الرَّبِیعِ الْمَکِّیُّ حَدَّثَنَا سُفْیَانُ عَنْ إِدْرِیسَ الأَوْدِیِّ قَالَ : أَخْرَجَ إِلَیْنَا سَعِیدُ بْنُ أَبِی بُرْدَۃَ کِتَابًا فَقَالَ ہَذَا کِتَابُ عُمَرَ رَضِیَ اللَّہُ عَنْہُ إِلَی أَبِی مُوسَی رَضِیَ اللَّہُ عَنْہُ فَذَکَرَ الْحَدِیثَ قَالَ فِیہِ الْفَہْمَ الْفَہْمَ فِیمَا یَخْتَلِجُ فِی صَدْرِکَ مِمَّا لَمْ یَبْلُغْکَ فِی الْقُرْآنِ وَالسُّنَّۃِ فَتَعَرَّفِ الأَمْثَالَ وَالأَشْبَاہَ ثُمَّ قِسِ الأُمُورَ عِنْدَ ذَلِکَ وَاعْمِدْ إِلَی أَحَبِّہَا إِلَی اللَّہِ وَأَشْبَہِہَا فِیمَا تَرَی۔ [صحیح۔ تقدم برقم ۲۰۲۸۳]
(٢٠٣٤٧) ادریس اودی فرماتے ہیں کہ سعید بن ابی بردہ نے ایک خط دیا کہ یہ خط حضرت عمر (رض) کا ابوموسیٰ کے نام ہے۔ اس نے حدیث ذکر کی ، اس میں ہے : سمجھ سمجھ ! جو معاملہ تیرے دل میں شکوک و شبہات پیدا کر دے اور قرآن وسنت میں بھی موجود نہ ہو تو اس طرح کے معاملات کو پہچاننے کی کوشش کرو۔ پھر معاملات کو قیاس کرلو اور اس کا قصد کرو جو اللہ کو زیادہ پسند ہو اور اس کے زیادہ مشابہ ہو جو آپ کی رائے میں ہے۔