(۲۰۳۵۱) أَخْبَرَنَا أَبُو زَکَرِیَّا بْنُ أَبِی إِسْحَاقَ أَنْبَأَنَا أَبُو عَبْدِ اللَّہِ بْنُ یَعْقُوبَ حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ الْوَہَّابِ أَنْبَأَنَا جَعْفَرُ بْنُ عَوْنٍ عَنِ الأَعْمَشِ
(ح) وَأَخْبَرَنَا أَبُو طَاہِرٍ الْفَقِیہُ أَنْبَأَنَا أَبُو بَکْرٍ الْقَطَّانُ حَدَّثَنَا عَلِیُّ بْنُ الْحَسَنِ الْہِلاَلِیُّ حَدَّثَنَا طَلْقُ بْنُ غَنَّامٍ حَدَّثَنَا زَائِدَۃُ عَنِ الأَعْمَشِ عَنْ حَبِیبٍ عَنْ أَبِی الْبَخْتَرِیِّ قَالَ : سُئِلَ حُذَیْفَۃُ رَضِیَ اللَّہُ عَنْہُ عَنْ ہَذِہِ الآیَۃِ {اتَّخَذُوا أَحْبَارَہُمْ وَرُہْبَانَہُمْ أَرْبَابًا مِنْ دُونِ اللَّہِ} [التوبۃ ۳۱] أَکَانُوا یُصَلُّونَ لَہُمْ قَالَ لاَ وَلَکِنَّہُمْ کَانُوا یُحِلُّونَ لَہُمْ مَا حَرَّمَ اللَّہُ عَلَیْہِمْ فَیَسْتَحِلُّونَہُ وَیُحَرِّمُونَ عَلَیْہِمْ مَا أَحَلَّ اللَّہُ لَہُمْ فَیُحَرِّمُونَہُ فَصَارُوا بِذَلِکَ أَرْبَابًا۔
لَفْظُ حَدِیثِ زَائِدَۃَ۔ [ضعیف]
(٢٠٣٥١) ابوبختری فرماتے ہیں کہ حضرت حذیفہ (رض) سے اس آیت کے بارے میں سوال کیا گیا : { اِتَّخَذُوْٓا اَحْبَارَھُمْ وَ رُھْبَانَھُمْ اَرْبَابًا مِّنْ دُوْنِ اللّٰہِ } [التوبۃ ٣١] ” انھوں نے اپنے علماء اور درویشوں کو اللہ کو چھوڑ کر رب بنا لیا کہ “ کیا وہ ان کے لیے نماز پڑھتے تھے ؟ فرمایا : نہیں۔ لیکن وہ ان کے لیے حلال قرار دیتے جو اللہ نے ان پر حرام کردیا اور حرام قر ار دیتے جو اللہ نے ان پر حلال قرار دے دیا۔ اس وجہ سے وہ رب بن گئے۔