(۲۰۳۵۹) أَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللَّہِ الْحَافِظُ وَأَبُو سَعِیدِ بْنُ أَبِی عَمْرٍو قَالاَ حَدَّثَنَا أَبُو الْعَبَّاسِ مُحَمَّدُ بْنُ یَعْقُوبَ أَنْبَأَنَا الْعَبَّاسُ بْنُ الْوَلِیدِ أَنْبَأَنَا عُقْبَۃُ حَدَّثَنَا سَعِیدُ بْنُ عَبْدِ الْعَزِیزِ حَدَّثَنِی إِسْمَاعِیلُ بْنُ عُبَیْدِ اللَّہِ عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ غَنْمٍ عَنْ عُمَرَ بْنِ الْخَطَّابِ رَضِیَ اللَّہُ عَنْہُ قَالَ : وَیْلٌ لِدَیَّانِ مَنْ فِی الأَرْضِ مِنْ دَیَّانِ مَنْ فِی السَّمَائِ یَوْمَ یَلْقَوْنَہُ إِلاَّ مَنْ أَمَّ الْعَدْلَ وَقَضَی بِالْحَقِّ وَلَمْ یَقْضِ عَلَی ہَوًی وَلاَ عَلَی قَرَابَۃٍ وَلاَ عَلَی رَغَبٍ وَلاَ عَلَی رَہَبٍ وَجَعَلَ کِتَابَ اللَّہِ مَرْآۃً بَیْنَ عَیْنَیْہِ۔ [صحیح]
(٢٠٣٥٩) عبدالرحمن بن غنم سیدنا عمر بن خطاب سے نقل فرماتے ہیں کہ انھوں نے فرمایا : زمین کے قاضیوں کے لیے ہلاکت ہے اس ذات کی جانب سے جو آسمانوں میں ہے، قیامت کے دن حساب لینے والی صرف عدل کرنے والے محفوظ رہیں گے۔ ، جنہوں نے حق کا فیصلہ کیا اور خواہش، قرب تداری، طمع اور ڈر کو اڑے نہ آنے دیا اور کتاب اللہ کو اپنے سامنے شیشے کی طرح رکھا۔