(۲۰۳۵۸) أَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللَّہِ الْحَافِظُ حَدَّثَنَا أَبُو الْعَبَّاسِ مُحَمَّدُ بْنُ یَعْقُوبَ أَنْبَأَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ اللَّہِ بْنِ عَبْدِ الْحَکَمِ أَنْبَأَنَا ابْنُ وَہْبٍ أَخْبَرَنِی یُونُسُ بْنُ یَزِیدَ عَنِ ابْنِ شِہَابٍ أَنَّ عُمَرَ بْنَ الْخَطَّابِ رَضِیَ اللَّہُ عَنْہُ قَالَ وَہُوَ عَلَی الْمِنْبَرِ : یَا أَیُّہَا النَّاسُ إِنَّ الرَّأْیَ إِنَّمَا کَانَ مِنْ رَسُولِ اللَّہِ -ﷺ- مُصِیبًا لأَنَّ اللَّہَ عَزَّ وَجَلَّ کَانَ یُرِیہُ إِنَّمَا ہُوَ مِنَّا الظَّنُّ وَالتَّکَلُّفُ۔
قَالَ الشَّیْخُ رَحِمَہُ اللَّہُ وَإِنَّمَا أَرَادَ بِہِ وَاللَّہُ أَعْلَمُ الرَّأْیَ الَّذِی لاَ یَکُونُ مُشَبَّہًا بِأَصْلٍ وَفِی مَعْنَاہُ وَرَدَ مَا رُوِیَ عَنْہُ وَعَنْ غَیْرِہِ فِی ذَمِّ الرَّأْی فَقَدْ رُوِّینَا عَنْ أَکْثَرِہِمُ اجْتِہَادَ الرَّأْی فِی غَیْرِ مَوْضِعِ النَّصِّ وَاللَّہُ أَعْلَمُ۔
[ضعیف]
(٢٠٣٥٨) ابن شہاب زہری فرماتے ہیں کہ حضرت عمر بن خطاب (رض) منبر پر فرما رہے تھے : اے لوگو ! درست رائے تو رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کی تھی؛ کیونکہ یہ اللہ رب العزت کی جانب سے تھی۔ ہماری جانب سے گمان اور تکلف ہی ہے۔
شیخ فرماتے ہیں : یہاں ان کی مراد یہ ہے کہ رائے اصل کے مشابہہ نہیں ہوتی۔ جب نص موجود نہ ہو تو اجتہاد کیا جاتا ہے۔