(۲۰۳۶۱) أَخْبَرَنَا أَبُو حَازِمٍ الْحَافِظُ أَنْبَأَنَا أَبُو الْفَضْلِ بْنُ خَمِیرُوَیْہِ أَنْبَأَنَا أَحْمَدُ بْنُ نَجْدَۃَ حَدَّثَنَا سَعِیدُ بْنُ مَنْصُورٍ حَدَّثَنَا سُفْیَانُ عَنْ عَمْرِو بْنِ عَامِرٍ عَنْ عُمَرَ بْنِ عَبْدِ الْعَزِیزِ رَحِمَہُ اللَّہُ أَنَّہُ قَالَ : لاَ یَنْبَغِی لِلرَّجُلِ أَنْ یَکُونَ قَاضِیًا حَتَّی یَکُونَ فِیہِ خَمْسُ خِصَالٍ فَإِنْ أَخْطَأَتْہُ وَاحِدَۃٌ کَانَتْ فِیہِ وَصْمَۃٌ وَإِنْ أَخْطَأَتْہُ اثْنَتَانِ کَانَتْ فِیہِ وَصْمَتَانِ حَتَّی یَکُونَ عَالِمًا بِمَا کَانَ قَبْلَہُ مُسْتَشِیرًا لِذِی الرَّأْیِ ذَا نَزَاہَۃٍ عَنِ الطَّمَعِ حَلِیمًا عَنِ الْخَصْمِ مُحْتَمِلاً لِلاَّئِمَۃِ۔ [صحیح]
(٢٠٣٦١) عمرو بن عامر فرماتے ہیں کہ عمر بن عبدالعزیز (رح) نے فرمایا : پانچ خوبیوں کے بغیر انسان کے لیے قاضی بننا درست نہیں۔ اگر ایک خوبی نہ ہو تو ایک عیب ہے، اگر دو خوبیاں نہ ہوں تو دو عیب ہیں۔ اپنے پہلے والوں کے بارے میں جانتا ہو۔ عقل مندوں سے مشورہ لیتا ہو۔ لالچ سے دور رہتا ہو۔ جھگڑے میں بردباری کا مظاہرہ کرے اور ائمہ سے درگزر کرنے والا ہو۔