(۲۰۳۶۳) أَخْبَرَنَا عَلِیُّ بْنُ أَحْمَدَ بْنِ عَبْدَانَ أَنْبَأَنَا أَحْمَدُ بْنُ عُبَیْدٍ حَدَّثَنَا أَحْمَدُ بْنُ عَلِیٍّ الْخَزَّازُ حَدَّثَنَا سُرَیْجُ بْنُ النُّعْمَانِ حَدَّثَنَا فُلَیْحُ بْنُ سُلَیْمَانَ عَنْ ہِلاَلِ بْنِ عَلِیٍّ عَنْ عَطَائِ بْنِ یَسَارٍ عَنْ أَبِی ہُرَیْرَۃَ رَضِیَ اللَّہُ عَنْہُ قَالَ : بَیْنَمَا النَّبِیُّ -ﷺ- جَالِسٌ فِی مَجْلِسِہِ یُحَدِّثُ الْقَوْمَ حَدِیثًا جَائَ ہُ أَعْرَابِیٌّ فَقَالَ یَا رَسُولَ اللَّہِ مَتَی السَّاعَۃُ وَمَضَی رَسُولُ اللَّہِ -ﷺ- یُحَدِّثُ فَقَالَ بَعْضُ الْقَوْمِ سَمِعَ مَا قَالَ فَکَرِہَ مَا قَالَ وَقَالَ بَعْضُ لَمْ یَسْمَعْ حَتَّی إِذَا قَضَی حَدِیثَہُ قَالَ : أَیْنَ السَّائِلُ عَنِ السَّاعَۃِ؟ ۔ قَالَ : ہَذَا أَنَا یَا رَسُولَ اللَّہِ۔ قَالَ : إِذَا ضُیِّعَتِ الأَمَانَۃُ فَانْتَظِرِ السَّاعَۃَ ۔ قَالُوا : یَا رَسُولَ اللَّہِ مَا إِضَاعَتُہَا؟ قَالَ : إِذَا أُسْنِدَ الأَمْرُ إِلَی غَیْرِ أَہْلِہِ فَانْتَظِرِ السَّاعَۃَ ۔
رَوَاہُ الْبُخَارِیُّ فِی الصَّحِیحِ عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ سِنَانٍ عَنْ فُلَیْحٍ۔ [صحیح۔ بخاری ۵۹۱۔ ۶۴۹۶]
(٢٠٣٦٣) سیدنا ابوہریرہ (رض) فرماتے ہیں کہ نبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) ایک مجلس میں قوم کا تذکرہ فرما رہے تھے۔ ایک دیہاتی نے کہا : اے اللہ کے رسول ! قیامت کب آئے گی ؟ نبی باتوں میں مصروف رہے۔ بعض لوگوں نے کہا جنہوں نے اس کی بات سنی تھی کہ نبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے اس کو ناپسند فرمایا ہے اور بعض نے کہا کہ آپ نے اس کی بات سنی ہی نہیں۔ یہاں تک کہ آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے اپنی بات مکمل کی۔ آپ نے فرمایا : قیامت کے بارے میں سوال کرنے والا کدھر ہے ؟ اس نے کہا : میں ہوں، اے اللہ کے رسول ! آپ نے فرمایا : جب امانت کا ضیاع شروع ہوجائے تو قیامت کا انتظار کرو۔ انھوں نے کہا : اے اللہ کے رسول ! امانت کے ضیاع کا کیا مطلب ؟ فرمایا : جب حکومت اہل لوگوں کے سپرد کردی جائے گی تو قیامت کا انتظار کرو۔