(۲۰۳۷۷) أَخْبَرَنَا أَبُو مُحَمَّدٍ عَبْدُ اللَّہِ بْنُ یُوسُفَ الأَصْبَہَانِیُّ أَنْبَأَنَا أَبُو سَعِیدِ بْنُ الأَعْرَابِیِّ أَنْبَأَنَا الْحَسَنُ بْنُ مُحَمَّدٍ الزَّعْفَرَانِیُّ حَدَّثَنَا عَبْدُ الْوَہَّابِ بْنُ عَطَائٍ عَنْ سَعِیدٍ عَنْ قَتَادَۃَ عَنْ أَبِی حَسَّانَ : أَنَّ الْعَبَّاسَ بْنَ خَرَشَۃَ الْکِلاَبِیَّ قَالَ لَہُ بَنُو عَمِّہِ وَبَنُو عَمِّ امْرَأَتِہِ إِنَّ امْرَأَتَکَ لاَ تُحِبُّکَ فَإِنْ أَحْبَبْتَ أَنْ تَعْلَمَ ذَلِکَ فَخَیِّرْہَا فَقَالَ یَا بَرْزَۃُ بِنْتَ الْحُرِّ اخْتَارِی فَقَالَتْ وَیْحَکَ اخْتَرْتُ وَلَسْتَ بِخِیَارٍ قَالَتْ ذَلِکَ ثَلاَثَ مَرَّاتٍ فَقَالُوا حَرُمَتْ عَلَیْکَ فَقَالَ : کَذَبْتُمْ فَأَتَی عَلِیًّا رَضِیَ اللَّہُ عَنْہُ فَذَکَرَ ذَلِکَ لَہُ فَقَالَ : لَئِنْ قَرِبْتَہَا حَتَّی تَنْکِحَ زَوْجًا غَیْرَکَ لأُغَیِّبَنَّکَ بِالْحِجَارَۃِ أَوْ قَالَ أَرْضَخُکَ بِالْحِجَارَۃِ قَالَ فَلَمَّا اسْتُخْلِفَ مُعَاوِیَۃُ رَضِیَ اللَّہُ عَنْہُ أَتَاہُ فَقَالَ إِنَّ أَبَا تُرَابٍ فَرَّقَ بَیْنِی وَبَیْنَ امْرَأَتِی بِکَذَا وَکَذَا قَالَ : قَدْ أَجَزْنَا قَضَائَ ہُ عَلَیْکَ أَوْ قَالَ مَا کُنَّا لَنَرُدَّ قَضَائً قَضَاہُ عَلَیْکَ۔ [ضعیف]
(٢٠٣٧٧) عباس بن خرشہ کلابی سے اس کے چچاؤں کے بیٹے اور اس کی بیوی کے چچاؤں کے بیٹے نے کہا : تیری عورت تجھ سے محبت نہیں کرتی، اگر آپ جاننا چاہتے ہیں تو اس کو اختیار دے دو ۔ اس نے اپنی بیوی برزہ بنت حر کو اختیار دے دیا۔ وہ کہنے لگی : تجھ پر افسوس میں نے اپنا اختیار استعمال کرلیا۔ لیکن آپ کو اختیار نہیں۔ اس نے یہ تین بار کہہ دیا۔ انھوں نے کہا : یہ تیرے اوپر حرام ہوگئی۔ وہ کہنے لگے : تم جھوٹ بولتے ہو۔ انھوں نے حضرت علی (رض) کے پاس آکر تذکرہ کیا فرمایا اگر تو اس کے پاس گیا یہاں تک کہ وہ کسی دوسرے کے ساتھ نکاح کرے تو میں تجھے پتھروں سے سنگسار کر دوں گا۔ راوی فرماتے ہیں کہ پھر وہ امیر معاویہ کے پاس آئے اور کہا کہ حضرت علی (رض) نے اس وجہ سے میرے اور میری بیوی کے درمیان تفریق کروا دی تھی ۔ کہنے لگے : ہم نے بھی وہی فیصلہ باقی رکھا یا فرمایا : ہم ان کے فیصلہ میں تبدیلی نہ کریں گے۔