hadith book logo

Sunan Al Bayhaqi: Hadith 20384

.

سنن البيهقي

20384
Sunan Al Bayhaqi
(۲۰۳۷۸) أَخْبَرَنَا أَبُو بَکْرِ بْنُ الْحَارِثِ الْفَقِیہُ أَنْبَأَنَا عَلِیُّ بْنُ عُمَرَ الْحَافِظُ حَدَّثَنَا یَعْقُوبُ بْنُ إِبْرَاہِیمَ الْبَزَّازُ حَدَّثَنَا الْحَسَنُ بْنُ عَرَفَۃَ حَدَّثَنَا إِسْمَاعِیلُ ابْنُ عُلَیَّۃَ عَنِ ابْنِ عَوْنٍ عَنْ عِیسَی بْنِ الْحَارِثِ قَالَ : کَانَتْ أُمُّ وَلَدٍ لأَخِی شُرَیْحِ بْنِ الْحَارِثِ وَلَدَتْ لَہُ جَارِیَۃً فَزُوِّجَتْ فَوَلَدَتْ غُلاَمًا ثُمَّ تُوُفِّیَتْ أُمُّ الْوَلَدِ قَالَ فَاخْتَصَمَ فِی مِیرَاثِہَا شُرَیْحُ بْنُ الْحَارِثِ وَابْنُ بِنْتِہَا إِلَی شُرَیْحٍ فَجَعَلَ شُرَیْحُ بْنُ الْحَارِثِ یَقُولُ لِشُرَیْحٍ إِنَّہُ لَیْسَ لَہُ مِیرَاثٌ فِی کِتَابِ اللَّہِ إِنَّمَا ہُوَ ابْنُ بِنْتِہَا فَقَضَی شُرَیْحٌ بِمِیرَاثِہَا لاِبْنِ بِنْتِہَا وَقَالَ {وَأُولُو الأَرْحَامِ بَعْضُہُمْ أَوْلَی بِبَعْضٍ فِی کِتَابِ اللَّہِ} [الأنفال ۷۵] فَرَکِبَ مَیْسَرَۃُ بْنُ یَزِیدَ إِلَی ابْنِ الزُّبَیْرِ فَأَخْبَرَہُ الَّذِی کَانَ مِنْ شُرَیْحٍ فَکَتَبَ ابْنُ الزُّبَیْرِ إِلَی شُرَیْحٍ أَنَّ مَیْسَرَۃَ بْنَ یَزِیدَ ذَکَرَ لِی کَذَا وَکَذَا وَإِنَّکَ قُلْتَ عِنْدَ ذَلِکَ {وَأُولُو الأَرْحَامِ بَعْضُہُمْ أَوْلَی بِبَعْضٍ فِی کِتَابِ اللَّہِ} [الأنفال ۷۵] إِنَّمَا کَانَتْ تِلْکَ الآیَۃُ فِی شَأْنِ الْعُصْبَۃِ کَانَ الرَّجُلُ یُعَاقِدُ الرَّجُلَ فَیَقُولُ تَرِثُنِی وَأَرِثُکَ فَلَمَّا نَزَلَتْ تُرِکَ ذَلِکَ قَالَ فَجَائَ مَیْسَرَۃُ بْنُ یَزِیدَ بِالْکِتَابِ إِلَی شُرَیْحٍ فَلَمَّا قَرَأَہُ أَبَی أَنْ یَرُدَّ قَضَائَ ہُ وَقَالَ إِنَّمَا أَعْتَقَہَا حِیتَانُ بَطْنِہَا۔ [ضعیف]
(٢٠٣٧٨) عیسیٰ بن حارث فرماتے ہیں کہ میرے بھائی شریح بن حارث کی ایک امِ ولد تھی۔ اس کے ہاں بچی پیدا ہوئی۔ اس کی شادی کردی گئی۔ اس کے ہاں بچے کی پیدائش ہوئی اور ام ولد لونڈی فوت ہوگئی۔ راوی فرماتے ہیں کہ شریح بن حارث اور اس لونڈی کے نواسے میں میراث کا جھگڑا پیدا ہوگیا۔ وہ قاضی شریح کے پاس آئے تو قاضی شریح نے فیصلہ لونڈی کے نواسی کے حق میں کردیا اور فرمایا : { وَ اُولُوا الْاَرْحَامِ بَعْضُھُمْ اَوْلٰی بِبَعْضٍ فِیْ کِتٰبِ اللّٰہِ } [الأنفال ٧٥] ” اللہ کی کتاب میں بعض رشتہ دار بعض کے زیادہ نزدیک ہوتے ہیں۔ “ میسرہ بن یزید نے ابن زبیر کو قاضی شریح کے فیصلہ سے آگاہ کیا تو ابن زبیر نے قاضی شریح کو خط لکھا کہ میسرۃ بن یزید نے مجھے یہ خبر دی ہے کہ آپ نے یہ آیت { وَ اُولُوا الْاَرْحَامِ بَعْضُھُمْ اَوْلٰی بِبَعْضٍ فِیْ کِتٰبِ اللّٰہِ } [الأنفال ٧٥] تلاوت فرمائی۔ یہ آیت تو عصبات کے متعلق ہے کہ آدمی ایک دوسرے سے معاہدہ کرلیتے تھے کہ تو میرا وارث میں تیرا وارث۔ جب یہ آیت اتری تو یہ سلسلہ چھوڑ دیا گیا تو میسرہبن یزید ابن زبیر (رض) کا خط لے کر قاضی شریح کے پاس آئے۔ انھوں نے اپنا فیصلہ برقرار رکھا اور فرمایا : اس کو اس کیپیٹ کی مچھلی نے آزاد کیا ہے۔