(۲۰۳۷۹) أَخْبَرَنَا أَبُوعَبْدِاللَّہِ الْحَافِظُ أَخْبَرَنِی أَحْمَدُ بْنُ سَہْلٍ الْفَقِیہُ حَدَّثَنَا إِبْرَاہِیمُ بْنُ مَعْقِلٍ حَدَّثَنَا حَرْمَلَۃُ حَدَّثَنَا ابْنُ وَہْبٍ حَدَّثَنِی مَالِکٌ : أَنَّ أَبَانَ بْنَ عُثْمَانَ حِینَ وَلِیَ الْمَدِینَۃَ فِی خِلاَفَۃِ عَبْدِ الْمَلِکِ بْنِ مَرْوَانَ فَأَرَادَ أَنْ یَنْقُضَ مَا کَانَ عَبْدُ اللَّہِ بْنُ الزُّبَیْرِ قَضَی فِیہِ فَکَتَبَ أَبَانُ بْنُ عُثْمَانَ فِی ذَلِکَ إِلَی عَبْدِ الْمَلِکِ فَکَتَبَ إِلَیْہِ عَبْدُ الْمَلِکِ إِنَّا لَمْ نَنْقَمْ عَلَی ابْنِ الزُّبَیْرِ مَا کَانَ یَقْضِی بِہِ وَلَکِنْ نَقَمْنَا عَلَیْہِ مَا کَانَ أَرَادَ مِنَ الإِمَارَۃِ فَإِذَا جَائَ کَ کِتَابِی ہَذَا فَأَمْضِ مَا کَانَ قَضَی بِہِ ابْنُ الزُّبَیْرِ وَلاَ تَرُدُّہُ فَإِنَّ نَقْضَنَا الْقَضَائَ عَنَاء ٌ مُعَنٍّی۔ [حسن]
(٢٠٣٧٩) امام مالک (رح) فرماتے ہیں : جب ابان بن عثمان عبدالملک بن مروان کے دور حکومت میں مدینہ کے امیر بنے تو اس نے ابن زبیر (رض) کو اس فیصلہ سے ہٹانا چاہا، جو وہ کیے بیٹھے تھے۔ ابان بن عثمان عبدالملک بن مروان کو خط لکھا کہ ہم ابن زبیر سے اس کے فیصلہ کی وجہ سے انتقام نہیں لینا چاہتے بلکہ ہم تو اس کے امارت کے ارادہ پر انتقام چاہیں گے۔ جب میرا خط ملے تو کر گزرنا، جو ابن زبیر نے فیصلہ کیا ہے، آپ باز نہ آئیں؛ کیونکہ فیصلوں کو کاٹنا بڑا مشکل ہوتا ہے۔