(۲۰۳۹۱) أَخْبَرَنَا عَلِیُّ بْنُ أَحْمَدَ بْنِ عَبْدَانَ أَنْبَأَنَا أَحْمَدُ بْنُ عُبَیْدٍ حَدَّثَنَا عَبَّاسُ بْنُ الْفَضْلِ حَدَّثَنَا أَبُو الْوَلِیدِ حَدَّثَنَا دَاوُدُ بْنُ أَبِی الْفُرَاتِ
(ح) وَأَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ اللَّہِ الْحَافِظُ وَأَبُو زَکَرِیَّا بْنُ أَبِی إِسْحَاقَ وَاللَّفْظُ لَہُمَا قَالاَ أَنْبَأَنَا أَبُو الْحَسَنِ أَحْمَدُ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ عُبْدُوسٍ حَدَّثَنَا عُثْمَانُ بْنُ سَعِیدٍ الدَّارِمِیُّ حَدَّثَنَا مُوسَی بْنُ إِسْمَاعِیلَ حَدَّثَنَا دَاوُدُ بْنُ أَبِی الْفُرَاتِ الْکِنْدِیُّ حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّہِ بْنُ بُرَیْدَۃَ عَنْ أَبِی الأَسْوَدِ الدِّیلِیِّ قَالَ : أَتَیْتُ الْمَدِینَۃَ وَقَدْ وَقَعَ بِہَا مَرَضٌ فَہُمْ یَمُوتُونَ مَوْتًا ذَرِیعًا فَجَلَسْتُ إِلَی عُمَرَ بْنِ الْخَطَّابِ رَضِیَ اللَّہُ عَنْہُ فَمَرَّتْ عَلَیْہِ جَنَازَۃٌ فَأُثْنِیَ عَلَی صَاحِبِہَا خَیْرًا فَقَالَ عُمَرُ رَضِیَ اللَّہُ عَنْہُ وَجَبَتْ ثُمَّ مَرَّ بِأُخْرَی فَأُثْنِیَ عَلَیْہَا خَیْرًا فَقَالَ عُمَرُ وَجَبَتْ ثُمَّ مَرَّ بِالثَّالِثَۃِ فَأُثْنِیَ عَلَی صَاحِبِہَا شَرًّا فَقَالَ عُمَرُ رَضِیَ اللَّہُ عَنْہُ وَجَبَتْ قَالَ أَبُو الأَسْوَدِ فَقُلْتُ مَا وَجَبَتْ یَا أَمِیرَ الْمُؤْمِنِینَ قَالَ قُلْتُ کَمَا قَالَ رَسُولُ اللَّہِ -ﷺ- : أَیُّمَا مُسْلِمٍ شَہِدَ لَہُ أَرْبَعَۃٌ بِخَیْرٍ أَدْخَلَہُ اللَّہُ الْجَنَّۃَ ۔ قَالَ قُلْنَا : وَثَلاَثَۃٌ؟ قَالَ : وَثَلاَثَۃٌ ۔ قَالَ قُلْنَا : وَاثْنَانِ؟ قَالَ : وَاثْنَانِ ۔ ثُمَّ لَمْ نَسْأَلْہُ عَنِ الْوَاحِدِ۔
رَوَاہُ الْبُخَارِیُّ فِی الصَّحِیحِ عَنْ مُوسَی بْنِ إِسْمَاعِیلَ۔ [صحیح۔ بخاری ۱۳۶۸۔ ۲۶۴۳]
(٢٠٣٩١) ابواسود دیلمی فرماتے ہیں : میں مدینہ آیا، وہاں ایک وبا پھیل چکی تھی جس کی وجہ سے موتیں جلد ہو رہی تھیں۔ میں عمر بن خطاب (رض) کے پاس بیٹھ گیا۔ ایک جنازہ گزرا تو اس کی اچھی تعریف کی گئی ہے۔ حضرت عمر (رض) فرمانے لگے : واجب ہوگئی۔ پھر دوسرا جنازہ گزرا، اس کی بھی تعریف کی گئی۔ حضرت عمر (رض) فرمانے لگے : واجب ہوگئی۔ پھر تیسرا جنازہ گزراتو اس کی برائی کی گئی۔ حضرت عمر (رض) نے فرمایا : واجب ہوگئی۔ ابواسود کہتے ہیں کہ میں نے پوچھا : اے امیرالمومنین ! کیا چیز واجب ہوگئی ؟ کہنے لگے کہ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا : جس مسلمان اس کی چار آدمی اچھائی کی گواہی دے دیں، اللہ اس کو جنت میں داخل کر دے گا۔ راوی فرماتے ہیں کہ ہم نے کہا : تین تو آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا : تین۔ ہم نے کہا : دو آپ نے فرمایا : دو بھی۔ پھر ہم نے ایک کے بارے سوال نہیں کیا۔