(۲۰۴۳۳) وَأَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللَّہِ الْحَافِظُ حَدَّثَنَا عَلِیُّ بْنُ حَمْشَاذَ الْعَدْلُ أَنْبَأَنَا عَلِیُّ بْنُ عَبْدِ الْعَزِیزِ أَنَّ أَبَا عُمَرَ الْحَوْضِیَّ حَدَّثَہُمْ قَالَ حَدَّثَنَا حَمَّادُ بْنُ زَیْدٍ قَالَ حَدَّثَنَا یَحْیَی بْنُ سَعِیدٍ قَالَ : قَدِمَ عَلَیْنَا أَنَسُ بْنُ مَالِکٍ رَضِیَ اللَّہُ عَنْہُ الْمَدِینَۃَ فَحَدَّثَنَا أَنَّ رَسُولَ اللَّہِ -ﷺ- أَقْطَعَ الأَنْصَارَ الْبَحْرَیْنِ وَأَرَادَ أَنْ یَکْتُبَ لَہُمْ بِہَا کِتَابًا فَقَالُوا لاَ حَتَّی تُعْطِیَ إِخْوَانَنَا مِنْ قُرَیْشٍ مِثْلَہَا فَقَالَ رَسُولُ اللَّہِ -ﷺ- : إِنَّکُمْ سَتَرَوْنَ بَعْدِی أَثَرَۃً فَاصْبِرُوا حَتَّی تَلْقَوْنِی ۔ [صحیح۔ متفق علیہ]
(٢٠٤٣٣) یحییٰ بن سعید فرماتے ہیں کہ انس بن مالک (رض) مدینہ میں ہمارے پاس آئے۔ انھوں نے ہمیں بیان کیا کہ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے انصار کو بحرین کی زمین جاگیر دی ہے اور آپ کا ارادہ تھا کہ ان کو لکھ کر دے دیں۔ انھوں نے کہا : نہیں یہاں تک کہ قریشیوں کو بھی اس کے مثل دیا جائے تو نبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا : میرے بعد تم ترجیح کو دیکھو گے، پھر صبر کرنا یہاں تک کہ مجھے ملو۔