(۲۰۴۵۴) وَأَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللَّہِ الْحَافِظُ حَدَّثَنَا أَبُو الْعَبَّاسِ مُحَمَّدُ بْنُ یَعْقُوبَ حَدَّثَنَا سَعِیدُ بْنُ عُثْمَانَ التَّنُوخِیُّ حَدَّثَنَا مُعَاوِیَۃُ بْنُ حَفْصٍ حَدَّثَنَا یَحْیَی بْنُ الْمُہَلَّبِ أَبُو کُدَیْنَۃَ عَنِ ابْنِ عَوْنٍ عَنِ ابْنِ سِیرِینَ قَالَ : کَانَ أَبُو عُبَیْدَۃَ بْنُ حُذَیْفَۃَ قَاضِیًا فَدَخَلَ عَلَیْہِ رَجُلٌ مِنَ الأَشْرَافِ وَہُوَ یَسْتَوْقِدُ فَسَأَلَہُ حَاجَۃً قَالَ لَہُ ابْنُ حُذَیْفَۃَ أَسْأَلُکَ أَنْ تُدْخِلَ إِصْبَعَکَ فِی ہَذِہِ النَّارِ قَالَ سُبْحَانَ اللَّہِ قَالَ أَفَبَخِلْتَ عَلَیَّ بِإِصْبَعٍ مِنْ أَصَابِعِکَ فِی ہَذِہِ النَّارِ وَسَأَلْتَنِی جِسْمِی أَوْ قَالَ کُلَّہُ فِی نَارِ جَہَنَّمَ۔ [ضعیف]
(٢٠٤٥٤) ابن سیرین فرماتے ہیں کہ ابوعبیدہ بن حذیفہ قاضی بنے تو ایک معزز آدمی ان کے پاس آیا، وہ آگ جلا رہے تھے۔ اس نے ضرورت کا سوال کیا تو ابن حذیفہ نے کہا : میں تجھ سے سوال کرتا ہوں کہ اپنی انگلی اس آگ میں ڈالو۔ اس نے کہا : سبحان اللہ، اللہ پاک ہے۔ اس نے کہا : کیا آپ اپنی ایک انگلی کا بخل کر رہے ہیں یا آپ میرے مکمل جسم کو آگ میں دھکیل رہے ہیں۔