(۲۰۴۷۶) أَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللَّہِ الْحَافِظُ وَأَبُو بَکْرٍ الْقَاضِی قَالاَ حَدَّثَنَا أَبُو الْعَبَّاسِ مُحَمَّدُ بْنُ یَعْقُوبَ حَدَّثَنَا أَبُو أُمَیَّۃَ الطَّرْسُوسِیُّ حَدَّثَنَا عُبَیْدُ اللَّہِ بْنُ مُوسَی حَدَّثَنَا أَبُو زِیَادٍ الْفُقَیْمِیُّ حَدَّثَنِی أَبُو حَرِیزٍ : أَنَّ رَجُلاً کَانَ یُہْدِی إِلَی عُمَرَ بْنِ الْخَطَّابِ رَضِیَ اللَّہُ عَنْہُ کُلَّ سَنَۃٍ فَخِذَ جَزُورٍ قَالَ فَجَائَ یُخَاصِمُ إِلَی عُمَرَ بْنِ الْخَطَّابِ رَضِیَ اللَّہُ عَنْہُ فَقَالَ یَا أَمِیرَ الْمُؤْمِنِینَ اقْضِ بَیْنَنَا قَضَائً فَصْلاً کَمَا تُفْصَلُ الْفَخِذُ مِنَ الْجَزُورِ قَالَ فَکَتَبَ عُمَرُ بْنُ الْخَطَّابِ رَضِیَ اللَّہُ عَنْہُ إِلَی عُمَّالِہِ لاَ تَقْبَلُوا الْہَدْیَ فَإِنَّہَا رِشْوَۃٌ۔ [ضعیف]
(٢٠٤٧٦) ابوحریر فرماتے ہیں کہ ایک آدمی حضرت عمر (رض) کو ہر سال اونٹ کی ران تحفہ میں دیتا۔ وہ جھگڑا لے کر حضرت عمر بن خطاب (رض) کے پاس آیا۔ اس نے کہا : اے امیرالمومنین ! ہمارے درمیان فیصلہ کیجیے، جیسے اونٹ کی ران اونٹ سے جدا ہوتی ہے تو حضرت عمر (رض) نے اپنے عمال کی طرف لکھا کہ ہدیہ قبول نہ کرو؛ کیونکہ رشوت ہے۔