(۲۰۴۷۷) وَأَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللَّہِ الْحَافِظُ أَنْبَأَنَا أَحْمَدُ بْنُ عَلِیٍّ الْمُقْرِئُ حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ أَصْبُغَ بْنِ الْفَرَجِ الْمِصْرِیُّ أَنْبَأَنَا أَبِی أَخْبَرَنِی عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ الْقَاسِمِ حَدَّثَنَا مَالِکٌ قَالَ : أَہْدَی رَجُلٌ مِنْ أَصْحَابِ رَسُولِ اللَّہِ -ﷺ- وَکَانَ مِنْ عُمَّالِ عُمَرَ بْنِ الْخَطَّابِ رَضِیَ اللَّہُ عَنْہُ نُمْرُقَتَیْنِ لاِمْرَأَۃِ عُمَرَ رَضِیَ اللَّہُ عَنْہُ فَدَخَلَ عُمَرُ فَرَآہُمَا فَقَالَ مِنْ أَیْنَ لَکَ ہَاتَیْنِ اشْتَرَیْتِہِمَا أَخْبِرِینِی وَلاَ تَکْذِبِینِی قَالَتْ بَعَثَ بِہِمَا إِلَیَّ فُلاَنٌ فَقَالَ قَاتَلَ اللَّہُ فُلاَنًا إِذَا أَرَادَ حَاجَۃً فَلَمْ یَسْتَطِعْہَا مِنْ قِبَلِی أَتَانِی مِنْ قِبَلِ أَہْلِی فَاجْتَبَذَہُمَا اجْتِبَاذًا شَدِیدًا مِنْ تَحْتِ مَنْ کَانَ عَلَیْہِمَا جَالِسًا فَخَرَجَ یَحْمِلُہُمَا فَتَبِعَتْہُ جَارِیَتُہَا فَقَالَتْ إِنَّ صُوفَہُمَا لَنَا فَفَتَقَہُمَا وَطَرَحَ إِلَیْہَا الصُّوفَ وَخَرَجَ بِہِمَا فَأَعْطَی إِحْدَاہُمَا امْرَأَۃً مِنَ الْمُہَاجِرَاتِ وَأَعْطَی الأُخْرَی امْرَأَۃً مِنَ الأَنْصَارِ۔ [ضعیف]
(٢٠٤٧٧) امام مالک (رح) فرماتے ہیں کہ ایک آدمی نے نبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے صحابہ کو تحفہ دیا۔ وہ حضرت عمر (رض) کے عمال میں سے تھا۔ حضرت عمر (رض) کی بیوی کو دو قالین تحفہ میں دیں۔ حضرت عمر (رض) داخل ہوئے تو دیکھا۔ پوچھا : کیا یہ قالین تو نے بازار سے خریدیں۔ مجھے خبر دو جھوٹ نہ بولنا۔ اس نے کہا : مجھے فلاں نے دیے ہیں۔ فرمایا : فلاں کو اللہ ہلاک کرے جب وہ کسی کام کا ارادہ کرے اور میری جانب سے وہ اس کام کی استطاعت نہ رکھے تو وہ میرے گھر والوں کی جانب سے آتا ہے۔ پھر آپ نے اپنے نیچے سے سختی سے کھینچ کر نکال دیں جس پر آپبیٹھے ہوئے تھے۔ وہ نکلا تاکہ ان دونوں کو اٹھاسکے، اس کی لونڈی نے اس کا پیچھا کیا۔ کہنے لگی : ان کی روئی ہماری ہے، اس نے ان دونوں کو پھاڑا۔ اس کی طرف روئی پھینکی، وہ ان کو لے کر نکل گیا۔ اس نے ایک مہاجرین کی عورت کو اور دوسری انصار کی عورت کو دے دی۔