(۲۰۴۸۶) أَخْبَرَنَا أَبُو عَلِیٍّ الْحُسَیْنُ بْنُ مُحَمَّدٍ الرُّوذْبَارِیُّ أَنْبَأَنَا عَبْدُ اللَّہِ بْنُ عُمَرَ بْنِ أَحْمَدَ بْنِ شَوْذَبٍ الْوَاسِطِیُّ بِہَا حَدَّثَنَا شُعَیْبُ بْنُ أَیُّوبَ حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ اللَّہِ الأَنْصَارِیُّ عَنْ حَاتِمِ بْنِ أَبِی صَغِیرَۃَ عَنْ سِمَاکِ بْنِ حَرْبٍ عَنْ حَنَشِ بْنِ الْمُعْتَمِرِ عَنْ عَلِیٍّ رَضِیَ اللَّہُ عَنْہُ قَالَ : بَعَثَنِی رَسُولُ اللَّہِ -ﷺ- إِلَی الْیَمَنِ فَقُلْتُ : یَا رَسُولَ اللَّہِ تَبْعَثُنِی إِلَی قَوْمٍ أَقْضِی بَیْنَہُمْ وَأَنَا حَدِیثُ السِّنِّ لاَ عِلْمَ لِی بِالْقَضَائِ فَقَالَ لِی : یَا عَلِیُّ إِذَا أَتَاکَ أَحَدُ الْخَصْمَیْنِ فَسَمِعْتَ مِنْہُ فَلاَ تَقْضِ لَہُ حَتَّی تَسْتَمِعَ مِنَ الآخَرِ کَمَا سَمِعْتَ مِنَ الأَوَّلِ فَإِنَّہُ یَتَبَیَّنُ لَکَ الْقَضَائُ ۔ قَالَ : فَمَا زِلْتُ قَاضِیًا کَذَا فِی رِوَایَۃِ حَاتِمِ بْنِ أَبِی صَغِیرَۃَ۔ [ضعیف]
(٢٠٤٨٦) سیدنا علی (رض) فرماتے ہیں کہ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے مجھے یمن بھیجا۔ میں نے کہا : اے اللہ کے رسول (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) ! آپ مجھے قاضی بنا کر روانہ کر رہے ہیں، حالانکہ میں نوجوان ہوں۔ قضاۃ کا علم بھی نہیں۔ فرمایا : اے علی ! جب تیرے پاس دوجھگڑا کرنے والے آئیں تو ان کی بات سن، اتنی دیر فیصلہ نہ کرنا جتنی دیر دوسرے کی بات نہ سن لے۔ فیصلہ تیرے لیے واضح ہوجائے گا۔ فرماتے ہیں : پھر میں اس طرح فیصلہ کرتا رہا۔