(۲۰۴۸۷) وَقَدْ أَخْبَرَنَا أَبُوعَلِیٍّ الرُّوذْبَارِیُّ فِی کِتَابِ السُّنَنِ لأَبِی دَاوُدَ أَنْبَأَنَا أَبُوبْکَرِ بْنُ دَاسَۃَ حَدَّثَنَا أَبُودَاوُدَ حَدَّثَنَا عَمْرُو بْنُ عَوْنٍ أَنْبَأَنَا شَرِیکٌ عَنْ سِمَاکٍ عَنْ حَنَشٍ عَنْ عَلِیٍّ رَضِیَ اللَّہُ عَنْہُ قَالَ : بَعَثَنِی رَسُولُ اللَّہِ -ﷺ- إِلَی الْیَمَنِ قَاضِیًا فَقُلْتُ یَا رَسُولَ اللَّہِ تُرْسِلُنِی وَأَنَا حَدِیثُ السِّنِّ وَلاَ عِلْمَ لِی بِالْقَضَائِ فَقَالَ : إِنَّ اللَّہَ جَلَّ ثَنَاؤُہُ سَیَہْدِی قَلْبَکَ وَیُثَبِّتُ لِسَانَکَ فَإِذَا جَلَسَ بَیْنَ یَدَیْکَ الْخَصْمَانِ فَلاَ تَقْضِیَنَّ حَتَّی تَسْمَعَ مِنَ الآخَرِ کَمَا سَمِعْتَ مِنَ الأَوَّلِ فَإِنَّہُ أَحْرَی أَنْ یَتَبَیَّنَ لَکَ الْقَضَائُ۔ قَالَ فَمَا زِلْتُ قَاضِیًا أَوْ مَا شَکَکْتُ فِی قَضَائٍ بَعْدُ۔
وَہَذَا یَتَنَاوَلُ الْمَوْضِعَ الَّذِی یَحْضُرُہُ الْخَصْمَانِ جَمِیعًا وَبِمَعْنَاہُ رَوَاہُ غَیْرُ شَرِیکٍ۔ [ضعیف]
(٢٠٤٨٧) سیدنا علی (رض) فرماتے ہیں کہ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے مجھے یمن قاضی بنا کر روانہ کیا۔ میں نے کہا : اے اللہ کے رسول ! میں نئی عمر والا ہوں۔ قضاۃ کا بھی علم نہیں۔ آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا : عنقریب اللہ تیرے دل کی رہنمائی فرمائے گا ۔ تیری زبان کو ثابت رکھے گا۔ جب فیصلہ کے لیے بیٹھو تو دونوں کی بات سن لینے کے بعد فیصلہ فرمانا۔ یہ بات زیادہ مناسب ہے کہ آپ کے لیے فیصلہ واضح ہوجائے۔ میں اس طرح ہمیشہ فیصلہ کرتا رہا یا مجھے فیصلے میں شک نہ ہوا۔