(۲۰۵۱۱) أَخْبَرَنَا أَبُو عَلِیٍّ الرُّوذْبَارِیُّ أَنْبَأَنَا مُحَمَّدُ بْنُ بَکْرٍ حَدَّثَنَا أَبُو دَاوُدَ قَالَ حَدَّثَنَا الرَّبِیعُ بْنُ نَافِعٍ عَنْ یَزِیدَ بْنِ الْمِقْدَامِ بْنِ شُرَیْحٍ عَنْ أَبِیہِ عَنْ جَدِّہِ شُرَیْحٍ عَنْ أَبِیہِ ہَانِئٍ : أَنَّہُ لَمَّا وَفَدَ إِلَی رَسُولِ اللَّہِ -ﷺ- أَتَی الْمَدِینَۃَ فَسَمِعَہُمْ یَکْنُونَہُ بِأَبِی الْحَکَمِ فَدَعَاہُ رَسُولُ اللَّہِ -ﷺ- فَقَالَ : إِنَّ اللَّہَ ہُوَ الْحَکَمُ وَإِلَیْہِ الْحُکْمُ فَلِمَ تُکْنَی أَبَا الْحَکَمِ ۔ قَالَ إِنَّ قَوْمِی إِذَا اخْتَلَفُوا فِی شَیْئٍ أَتَوْنِی فَحَکَمْتُ بَیْنَہُمْ فَرَضِیَ کِلاَ الْفَرِیقَیْنِ فَقَالَ رَسُولُ اللَّہِ -ﷺ- مَا أَحْسَنَ ہَذَا فَمَا لَکَ مِنَ الْوَلَدِ قَالَ لِی شُرَیْحٌ وَمُسْلِمٌ وَعَبْدُ اللَّہِ قَالَ فَمَنْ أَکْبَرُہُمْ قَالَ قُلْتُ شُرَیْحٌ قَالَ : فَأَنْتَ أَبُو شُرَیْحٍ ۔ [صحیح]
(٢٠٥١١) شریح اپنیوالدہانی سے نقل فرماتے ہیں کہ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے پاس مدینہ میں ایک وفد آیا۔ آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے سنا کہ انھوں ابوالحکم کنیت رکھی ہوئی ہے۔ نبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے بلایا اور فرمایا : حکم تو اللہ تعالیٰ ہیں۔ تو نے ابوالحکم کنیت کیوں رکھی ؟ اس نے کہا : میری قوم اپنے فیصلے مجھ سے کرواتے تھے اور دونوں فریق راضی ہوجاتے۔ آپ نے فرمایا : یہ کتنا اچھا ہے کیا تیرا کوئی بچہ ہے ؟ اس نے کہا : شریح، مسلم اور عبداللہ ہیں۔ پوچھا : ان میں سے بڑا کون ہے ؟ س نے کہا : شریح ۔ آپ نے فرمایا : تو ابو شریح کنیت رکھ۔