(۲۰۵۲۶) أَخْبَرَنَا أَبُو نَصْرٍ عُمَرُ بْنُ عَبْدِ الْعَزِیزِ بْنِ عُمَرَ بْنِ قَتَادَۃَ أَنْبَأَنَا أَبُو عَلِیٍّ حَامِدُ بْنُ مُحَمَّدٍ الرَّفَّائُ الْہَرَوِیُّ حَدَّثَنَا أَبُو مُحَمَّدٍ عَبْدُ اللَّہِ بْنُ أَحْمَدَ بْنِ حَمَّادٍ الْقُومِسِیُّ حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ یُونُسَ حَدَّثَنَا عِیسَی بْنُ یُونُسَ عَنِ ابْنِ جُرَیْجٍ عَنْ سُلَیْمَانَ بْنِ مُوسَی عَنِ الزُّہْرِیِّ عَنْ عُرْوَۃَ عَنْ عَائِشَۃَ قَالَتْ قَالَ رَسُولُ اللَّہِ -ﷺ- : لاَ نِکَاحَ إِلاَّ بِوَلِیٍّ وَشَاہِدَیْ عَدْلٍ فَإِنِ اشْتَجَرُوا فَالسُّلْطَانُ وَلِیُّ مَنْ لاَ وَلِیَّ لَہُ فَإِنْ نَکَحَتْ فَنِکَاحُہَا بَاطِلٌ ۔
(ت) وَرُوِّینَا فِی کِتَابِ النِّکَاحِ عَنِ الْحَسَنِ وَسَعِیدِ بْنِ الْمُسَیَّبِ أَنَّ عُمَرَ بْنَ الْخَطَّابِ رَضِیَ اللَّہُ عَنْہُ قَالَ : لاَ نِکَاحَ إِلاَّ بِوَلِیٍّ وَشَاہِدَیْ عَدْلٍ۔ وَرُوِّینَاہُ عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ وَالَّذِی رَوَاہُ حَجَّاجُ بْنُ أَرْطَاۃَ عَنْ عَطَائٍ عَنْ عُمَرَ بْنِ الْخَطَّابِ رَضِیَ اللَّہُ عَنْہُ : أَنَّہُ أَجَازَ شَہَادَۃَ الرَّجُلِ مَعَ النِّسَائِ فِی النِّکَاحِ لاَ یَصِحُّ۔
(ج) فَعَطَاء ٌ عَنْ عُمَرَ رَضِیَ اللَّہُ عَنْہُ مُنْقَطِعٌ وَالْحَجَّاجُ بْنُ أَرْطَاۃَ لاَ یُحْتَجُّ بِہِ وَمُرْسَلٌ ابْنُ الْمُسَیَّبِ عَنْ عُمَرَ رَضِیَ اللَّہُ عَنْہُ أَصَحُّ وَبِاللَّہِ التَّوْفِیقُ۔ [صحیح۔ تقدم فی کتاب النکاح]
(٢٠٥٢٦) سیدہ عائشہ (رض) فرماتی ہیں کہ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا : ولی اور دو گواہیوں کے بغیر نکاح نہیں ہوتا۔ اگر وہ آپس میں اختلاف کریں تو بادشاہ اس کا ولی ہے جس کا کوئی ولی نہیں۔ اگر اس نے اپنا نکاح خود کرلیا تو نکاح باطل ہے۔
(ب) حضرت عمر بن خطاب (رض) فرماتے ہیں کہ ولی اور دو عادل گواہوں کے بغیر نکاح باطل ہے۔
(ج) حضرت عمر بن خطاب (رض) نے مرد کی شہادت کے ساتھ عورت کی گواہی کی اجازت دی ہے، جو درست نہیں ہے۔