(۲۰۵۴۷) أَخْبَرَنَا أَبُو زَکَرِیَّا بْنُ أَبِی إِسْحَاقَ الْمُزَکِّی حَدَّثَنَا أَبُو الْعَبَّاسِ أَنْبَأَنَا الرَّبِیعُ أَخْبَرَنَا الشَّافِعِیُّ قَالَ أَخْبَرَنِی مَنْ أَثِقُ بِہِ مِنْ أَہْلِ الْمَدِینَۃِ عَنِ ابْنِ شِہَابٍ عَنْ سَعِیدِ بْنِ الْمُسَیَّبِ : أَنَّ عُمَرَ بْنَ الْخَطَّابِ رَضِیَ اللَّہُ عَنْہُ لَمَّا جَلَدَ الثَّلاَثَۃَ اسْتَتَابَہُمْ فَرَجَعَ اثْنَانِ فَقَبِلَ شَہَادَتَہُمَا وَأَبَی أَبُو بَکْرَۃَ أَنْ یَرْجِعَ فَرَدَّ شَہَادَتَہُ۔
وَرَوَاہُ سُلَیْمَانُ بْنُ کَثِیرٍ عَنِ الزُّہْرِیِّ عَنْ سَعِیدِ بْنِ الْمُسَیَّبِ أَنَّ عُمَرَ رَضِیَ اللَّہُ عَنْہُ قَالَ لأَبِی بَکْرَۃَ وَشِبْلٍ وَنَافِعٍ مَنْ تَابَ مِنْکُمْ قُبِلَتْ شَہَادَتُہُ۔
وَرَوَاہُ الأَوْزَاعِیُّ عَنِ الزُّہْرِیِّ عَنِ ابْنِ الْمُسَیَّبِ أَنَّ عُمَرَ رَضِیَ اللَّہُ عَنْہُ اسْتَتَابَ أَبَا بَکْرَۃَ۔
قَالَ الشَّیْخُ وَرَوَی عَبْدُ الرَّزَّاقِ عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ مُسْلِمٍ عَنْ إِبْرَاہِیمَ بْنِ مَیْسَرَۃَ عَنِ ابْنِ الْمُسَیَّبِ أَنَّ عُمَرَ رَضِیَ اللَّہُ عَنْہُ قَالَ لِلَّذِینَ شَہِدُوا عَلَی الْمُغِیرَۃِ رَضِیَ اللَّہُ عَنْہُ تُوبُوا تُقْبَلْ شَہَادَتُکُمْ قَالَ فَتَابَ مِنْہُمُ اثْنَانِ وَأَبَی أَبُو بَکْرَۃَ أَنْ یَتُوبَ قَالَ وَکَانَ عُمَرُ رَضِیَ اللَّہُ عَنْہُ لاَ یَقْبَلُ شَہَادَتَہُ۔ [صحیح]
(٢٠٥٤٧) سعید بن مسیب فرماتے ہیں کہ حضرت عمر بن خطاب (رض) نے تین اشخاص کو کوڑے لگائے۔ پھر ان سے توبہ کا مطالبہ کیا، دو نے توبہ کرلی تو انھوں نے ان کی شہادت قبول کرلی۔ ابوبکرہ نے انکار کردیا تو ان کی شہادت بھی قبول نہ ہوئی۔
(ب) سعید بن مسیب حضرت عمر (رض) سے نقل فرماتے ہیں کہ انھوں نے ابوبکرہ، شبل اور نافع سے کہا : جس نے توبہ کرلی اس کی شہادت قبول کی جائے گی۔
(ج) سعید بن مسیب حضرت عمر (رض) سے نقل فرماتے ہیں کہ انھوں نے ابوبکرہ سے توبہ کا مطالبہ کیا۔
شیخ فرماتے ہیں : سعید بن مسیب حضرت عمر (رض) سے نقل فرماتے ہیں کہ انھوں نے ان افراد سے کہا جنہوں نے مغیرہ کے خلاف گواہی دی تھی کہ تم توبہ کرو تمہاری گواہی قبول کی جائے گی۔ ان میں سے دو نے توبہ کرلی۔ ابوبکرہ نے توبہ سے انکار کردیا تو حضرت عمر (رض) نے ان کی شہادت قبول نہیں کی۔