(۲۰۵۴۸) أَخْبَرَنَا أَبُو طَاہِرٍ الْفَقِیہُ أَنْبَأَنَا أَبُو حَامِدِ بْنُ بِلاَلٍ حَدَّثَنَا أَبُو الأَزْہَرِ حَدَّثَنَا عَمْرُو بْنُ مُحَمَّدٍ عَنْ قَیْسٍ عَنْ سَالِمٍ الأَفْطَسِ عَنْ سَعِیدِ بْنِ عَاصِمٍ قَالَ : کَانَ أَبُو بَکْرَۃَ إِذَا أَتَاہُ الرَّجُلُ یُشْہِدُہُ قَالَ أَشْہِدْ غَیْرِی فَإِنَّ الْمُسْلِمِینَ قَدْ فَسَّقُونِی وَہَذَا إِنْ صَحَّ فَلأَنَّہُ امْتَنَعَ مِنْ أَنْ یَتُوبَ مِنْ قَذْفِہِ وَأَقَامَ عَلَیْہِ وَلَوْ کَانَ قَدْ تَابَ مِنْہُ لَمَا أَلْزَمُوہُ اسْمَ الْفِسْقِ وَاللَّہُ أَعْلَمُ۔
قَالَ الشَّافِعِیُّ رَحِمَہُ اللَّہُ وَبَلَغَنِی عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ أَنَّہُ کَانَ یُجِیزُ شَہَادَۃَ الْقَاذِفِ إِذَا تَابَ۔ [ضعیف]
(٢٠٥٤٨) سعید بن عاصم فرماتے ہیں کہ ابوبکرہ کے پاس جب کوئی آتا کہ اس کو گواہ بنائے تو وہ فرماتے : میرے علاوہ کسی دوسرے کو گواہ بنا۔ کیونکہ مسلمانوں نے مجھے گناہ گار ٹھہرایا ہے۔ انھوں نے تہمت کے بعد اس سے توبہ نہیں کی بلکہ اس پر قائم رہے ۔ اگر وہ توبہ کرلیتے تو ان سے فاسق کا الزام ختم ہوجاتا۔
قال الشافعی : ابن عباس (رض) بیان کرتے ہیں کہ قاذف کی شہادت توبہ کے بعد قبول ہے۔