(۲۰۵۵۶) أَخْبَرَنَا أَبُو أَحْمَدَ الْمِہْرَجَانِیُّ حَدَّثَنَا أَبُو بَکْرِ بْنُ جَعْفَرٍ الْمُزَکِّی حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ إِبْرَاہِیمَ حَدَّثَنَا ابْنُ بُکَیْرٍ حَدَّثَنَا مَالِکٌ أَنَّہُ بَلَغَہُ أَنَّ سَعِیدَ بْنَ الْمُسَیَّبِ وَسُلَیْمَانَ بْنَ یَسَارٍ سُئِلاَ عَنْ رَجُلٍ جُلِدَ ہَلْ تَجُوزُ شَہَادَتُہُ فَقَالاَ نَعَمْ إِذَا ظَہَرَتْ مِنْہُ التَّوْبَۃُ۔
وَعَنِ ابْنِ شِہَابٍ أَنَّہُ سُئِلَ عَنْ رَجُلٍ إِذَا جُلِدَ الْحَدَّ ہَلْ تَجُوزُ شَہَادَتُہُ قَالَ نَعَمْ إِذَا ظَہَرَتْ مِنْہُ التَّوْبَۃُ۔
قَالَ مَالِکٌ وَذَلِکَ الأَمْرُ عِنْدَنَا قَالَ اللَّہُ تَعَالَی {إِلاَّ الَّذِینَ تَابُوا مِنْ بَعْدِ ذَلِکَ وَأَصْلَحُوا فَإِنَّ اللَّہَ غَفُورٌ رَحِیمٌ} [آل عمران ۸۹] فَإِذَا تَابَ الَّذِی یُجْلَدُ الْحَدَّ وَأَصْلَحَ جَازَتْ شَہَادَتُہُ۔ [ضعیف]
(٢٠٥٥٦) سلیان بن یسار سے ایک حد لگائے گئے آدمی کے بارے میں پوچھا گیا کہ کیا اس کی گواہی جائز ہے ؟ فرمانے لگے : اگر توبہ کرلے تو جائز ہے۔
امام مالک (رح) نے فرمایا : یہی معاملہ ہمارے پاس ہے : { اِلَّا الَّذِیْنَ تَابُوْا مِنْ بَعْدِ ذٰلِکَ وَ اَصْلَحُوْا فَاِنَّ اللّٰہَ غَفُوْرٌ رَّحِیْمٌ} [آل عمران ٨٩] ” وہ لوگ جو اس کے بعد توبہ کرلیں اور اپنی اصلاح کرلیں تو اللہ بخشنے اور رحم کرنے والا ہے۔ “ جس کو حد لگائی گئی ہو اگر وہ توبہ کرلے تو اس کی گواہی قابلِ قبول ہے۔