hadith book logo

Sunan Al Bayhaqi: Hadith 20591

.

سنن البيهقي

20591
Sunan Al Bayhaqi
(۲۰۵۸۵) أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ اللَّہِ الْحَافِظُ أَنْبَأَنَا أَبُو الْفَضْلِ بْنُ إِبْرَاہِیمَ حَدَّثَنَا أَحْمَدُ بْنُ سَلَمَۃَ حَدَّثَنَا قُتَیْبَۃُ بْنُ سَعِیدٍ (ح) قَالَ وَأَخْبَرَنَا أَبُو النَّضْرِ الْفَقِیہُ وَاللَّفْظُ لَہُ حَدَّثَنَا أَبُو عَلِیٍّ صَالِحُ بْنُ مُحَمَّدٍ وَتَمِیمُ بْنُ مُحَمَّدٍ قَالاَ حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ رُمْحٍ قَالاَ حَدَّثَنَا اللَّیْثُ عَنْ نَافِعٍ عَنِ ابْنِ عُمَرَ رَضِیَ اللَّہُ عَنْہُ أَنَّہُ قَالَ لَہُ رَجُلٌ مِنْ بَنِی لَیْثٍ : إِنَّ أَبَا سَعِیدٍ الْخُدْرِیَّ یَأْثُرُ ہَذَا عَنْ رَسْولِ اللَّہِ -ﷺ- أَنَّہُ نَہَی عَنْ بَیْعِ الْوَرِقِ بِالْوَرِقِ إِلاَّ مِثْلاً بِمِثْلٍ وَعَنْ بَیْعِ الذَّہَبِ بِالذَّہَبِ إِلاَّ مِثْلاً بِمِثْلٍ۔ فَأَشَارَ أَبُو سَعِیدٍ بِإِصْبَعَیْہِ إِلَی عَیْنَیْہِ وَأُذُنَیْہِ فَقَالَ أَبْصَرَ عَیْنَایَ وَسَمِعَتْ أُذُنَایَ رَسُولَ اللَّہِ -ﷺ- یَقُولُ : لاَ تَبِیعُوا الذَّہَبَ بِالذَّہَبِ وَلاَ تَبِیعُوا الْوَرِقَ بِالْوَرِقِ إِلاَّ مِثْلاً بِمِثْلٍ وَلاَ تُشِفُّوا بَعْضَہُ عَلَی بَعْضٍ وَلاَ تَبِیعُوا مِنْہُ غَائِبًا بِنَاجِزٍ إِلاَّ یَدًا بَیَدٍ ۔ رَوَاہُ مُسْلِمٌ فِی الصَّحِیحِ عَنْ قُتَیْبَۃَ وَمُحَمَّدِ بْنِ رُمْحٍ۔ فَأَخْبَرَ أَنَّ الْعِلْمَ بِالْقَوْلِ یَقَعُ بِمُعَایَنَۃِ قَائِلِہِ وَسَمَاعِہِ مِنْہُ وَفِی ہَذَا عَنِ الصَّحَابَۃِ رَضِیَ اللَّہُ عَنْہُمْ أَمْثِلَۃٌ کَثِیرَۃٌ۔ قَالَ الشَّافِعِیُّ رَحِمَہُ اللَّہُ وَبِہَذَا قُلْتُ لاَ تَجُوزُ شَہَادَۃُ الأَعْمَی إِلاَّ أَنْ یَکُونَ أَثْبَتَ شَیْئًا مُعَایَنَۃً أَوْ مُعَایَنَۃً وَسَمَعًا ثُمَّ عَمِیَ فَتَجُوزُ شَہَادَتُہُ قَالَ وَإِذَا کَانَ الْقَوْلُ أَوِ الْفِعْلُ وَہُوَ أَعْمَی لَمْ یَجُزْ مِنْ قِبَلِ أَنَّ الصَّوْتَ یُشْبِہُ الصَّوْتَ۔ [صحیح۔ متفق علیہ]
(٢٠٥٨٥) نافع ابن عمر (رض) سے نقل فرماتے ہیں کہ بنو لیث کے ایک آدمی نے کہا کہ ابوسعید خدری (رض) نبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) سے نقل فرماتے ہیں کہ آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے منع فرمایا کہ چاندی کی بیع چاندی کے ساتھ کی جائے لیکن برابر برابر، اس طرح سونے کی بیع بھی برابر برابر کی جائے۔ ابوسعید نے اپنی انگلی سے اپنی آنکھوں اور کانوں کی طرف اشارہ کیا کہ میری آنکھوں نے دیکھا اور میرے کانوں نے سنا کہ آپ نے فرمایا : چاندی اور سونے کی بیع برابر برابر کی جائے اور ایک دوسرے پر قیمت میں اضافہ نہ کرو۔ غائب کو موجود کے عوض فروخت نہ کرو مگر ہاتھوں ہاتھ۔
(ب) محمد بن رمح فرماتے ہیں کہ علم کا حصول بات کے ذریعہ کہنے والے کے مشاہدہ اور سماع کی بناء پر۔
امام شافعی (رح) فرماتے ہیں کہ نابینا آدمی کی شہادت صرف اس صورت میں قبول ہے کہ اس نے مشاہدہ کیا ہو یا سنا ہو نظر ختم ہونے سے پہلے، لیکن جب وہ نابینا ہوجائے قول یا فعل نقل کرے وہ اندھا ہو تو اس کی جانب سے یہ خبر مقبول نہیں؛ کیونکہ آوازیں ایک دوسرے کے مشابہہ ہوتی ہیں۔