(۲۰۵۹۰) أَخْبَرَنَا أَبُو زَکَرِیَّا بْنُ أَبِی إِسْحَاقَ الْمُزَکِّی أَنْبَأَنَا أَبُو الْحَسَنِ الطَّرَائِفِیُّ حَدَّثَنَا عُثْمَانُ بْنُ سَعِیدٍ حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّہِ بْنُ صَالِحٍ عَنْ مُعَاوِیَۃَ بْنِ صَالِحٍ عَنْ عَلِیِّ بْنِ أَبِی طَلْحَۃَ عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ فِی قَوْلِہِ {کُونُوا قَوَّامِینَ بِالْقِسْطِ شُہَدَائَ لِلَّہِ وَلَوْ عَلَی أَنْفُسِکُمْ أَوِ الْوَالِدَیْنِ وَالأَقْرَبِینَ} [النساء ۱۳۵] قَالَ أَوْ آبَائِکُمْ أَوْ أَبْنَائِکُمْ وَلاَ تُحَابُوا غَنِیًّا لِغِنَاہُ وَلاَ تَرْحَمُوا مِسْکِینًا لِمَسْکَنَتِہِ وَذَلِکَ قَوْلُہُ {إِنْ یَکُنْ غَنِیًّا أَوْ فَقِیرًا فَاللَّہُ أَوْلَی بِہِمَا} [النساء ۱۳۵] وَفِی قَوْلِہِ {فَلاَ تَتَّبِعُوا الْہَوَی أَنْ تَعْدِلُوا} [النساء ۱۳۵] فَتَذَرُوا الْحَقَّ فَتَجُورُوا۔ [ضعیف]
(٢٠٥٩٠) ابن عباس اللہ کے قول : { کُوْنُوْا قَوّٰمِیْنَ بِالْقِسْطِ شُھَدَآئَ لِلّٰہِ وَ لَوْ عَلٰٓی اَنْفُسِکُمْ اَوِ الْوَالِدَیْنِ وَ الْاَقْرَبِیْنَ } [النساء ١٣٥] ” تم اللہ کے لیے انصاف کے ساتھ گواہی دو اگرچہ اپنے ہی خلاف یا والدین اور قریبی رشتہ داروں کے خلاف ہو۔ “ کے متعلق فرماتے ہیں : تمہارے باپوں یا بیٹوں کے خلاف ہی کیوں نہ ہو اور غنی سے اس کے غنی کی وجہ سے محبت نہ کرو اور مسکین پر اس کی مسکنت کی وجہ سے رحم نہ کرو۔ اللہ کا قول : { اِنْ یَّکُنْ غَنِیًّا اَوْ فَقِیْرًا فَاللّٰہُ اَوْلٰی بِھِمَا } [النساء ١٣٥] ” اگر وہ فقیر یا غنی ہوں تو اللہ ان کے زیادہ قریب ہے۔ اللہ کا فرمان : { فَلَا تَتَّبِعُوا الْھَوٰٓی اَنْ تَعْدِلُوْا } [النساء ١٣٥] ” خواہشات کی پیروی نہ کرو کہ تم عدل نہ کرسکو۔ ت حق کو چھوڑ کر ظلم کرو۔ “