(۲۰۵۹۹) أَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللَّہِ الْحَافِظُ أَنْبَأَنَا أَبُو عَبْدِ اللَّہِ بْنُ یَعْقُوبَ وَأَبُو الْفَضْلِ بْنُ إِبْرَاہِیمَ قَالاَ حَدَّثَنَا أَحْمَدُ بْنُ سَلَمَۃَ حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ بَشَّارٍ حَدَّثَنَا مُعَاذُ بْنُ ہِشَامٍ حَدَّثَنِی أَبِی عَنْ قَتَادَۃَ عَنْ زُرَارَۃَ بْنِ أَوْفَی عَنْ عِمْرَانَ بْنِ حُصَیْنٍ عَنِ النَّبِیِّ -ﷺ- قَالَ : خَیْرُ النَّاسِ قَرْنِی ثُمَّ الَّذِینَ یَلُونَہُمْ ثُمَّ یَنْشَأُ قَوْمٌ یَنْذُرُونَ وَلاَ یُوفُونَ وَیَحْلِفُونَ وَلاَ یُسْتَحْلَفُونَ وَیَخُونُونَ وَلاَ یُؤْتَمَنُونَ وَیَشْہَدُونَ وَلاَ یُسْتَشْہَدُونَ وَیَفْشُو فِیہِمُ السِّمَنُ۔ قَالَ أَبُوالْفَضْلِ فِی حَدِیثِہِ سَمِعْتُ أَحْمَدَ بْنَ سَلَمَۃَ یَقُولُ یَحْلِفُونَ لَیْسَ إِلاَّ فِی حَدِیثِ ہِشَامٍ مِنْ أَصْحَابِ قَتَادَۃَ۔
رَوَاہُ مُسْلِمٌ فِی الصَّحِیحِ عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ بَشَّارٍ بِزِیَادَتِہِ۔ وَہَذِہِ زِیَادَۃٌ یَنْفَرِدُ بِہَا مُعَاذُ بْنُ ہِشَامٍ عَنْ أَبِیہِ۔
[صحیح۔ متفق علیہ]
(٢٠٥٩٩) سیدنا عمران بن حصین (رض) نبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) سے نقل فرماتے ہیں کہ آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا : میرا دور بہترین ہے پھر جو ان کے بعد آئیں گے۔ پھر ایسی قوم آئے گی جو نذریں مانیں گے لیکن پوری نہ کریں گے۔ قسم اٹھائیں گے لیکن ان سے قسم طلب نہ کی جائے گی۔ خیانت کریں گے امین نہ ہوں گے۔ گواہی دیں گے لیکن گواہی طلب نہ کی جائے گی۔ ان میں موٹاپا عام ہوگا۔
ابوالفضل اپنی حدیث میں نقل فرماتے ہیں کہ میں نے احمد بن سلمہ سے سنا، وہ کہہ رہے تھے کہ وہ قسم اٹھائیں گے۔ یہ الفاظ صرف ابوقتادہ کے شاگرد ہی بیان کرتے ہیں۔