(۲۰۶۲۵) أَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللَّہِ الْحَافِظُ حَدَّثَنَا أَبُو قُتَیْبَۃَ سَلَمَۃُ بْنُ الْفَضْلِ الأَدَمِیُّ بِمَکَّۃَ حَدَّثَنَا إِبْرَاہِیمُ بْنُ عَبْدِ اللَّہِ الْبَصْرِیُّ حَدَّثَنَا عَلِیُّ بْنُ الْمَدِینِیِّ حَدَّثَنَا یَحْیَی بْنُ آدَمَ حَدَّثَنَا ابْنُ أَبِی زَائِدَۃَ عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ أَبِی الْقَاسِمِ عَنْ عَبْدِ الْمَلِکِ بْنِ سَعِیدِ بْنِ جُبَیْرٍ عَنْ أَبِیہِ عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ رَضِیَ اللَّہُ عَنْہُ قَالَ : خَرَجَ رَجُلٌ مِنْ بَنِی سَہْمٍ مَعَ تَمِیمٍ الدَّارِیِّ وَعَدِیِّ بْنِ بَدَّائٍ فَمَاتَ السَّہْمِیُّ بِأَرْضٍ لَیْسَ بِہَا مُسْلِمٌ فَلَمَّا قَدِمَا بِتَرِکَتِہِ فَقَدُوا جَامَ فِضَّۃٍ مُخَوَّصٌ بِالذَّہَبِ فَأَحْلَفَہُمَا رَسُولُ اللَّہِ -ﷺ- ثُمَّ وَجَدُوا الْجَامَ بِمَکَّۃَ فَقَالُوا اشْتَرَیْنَاہُ مِنْ تَمِیمٍ وَعَدِیٍّ فَقَامَ رَجُلاَنِ مِنْ أَوْلِیَائِ السَّہْمِیِّ فَحَلَفَا لَشَہَادَتُنَا أَحَقُّ مِنْ شَہَادَتِہِمَا وَإِنَّ الْجَامَ لِصَاحِبِہِمْ وَفِیہِمْ نَزَلَتْ ہَذِہِ الآیَۃُ {یَا أَیُّہَا الَّذِینَ آمَنُوا شَہَادَۃُ بَیْنِکُمْ} [المائدۃ ۱۰۶]
أَخْرَجَہُ الْبُخَارِیُّ فِی الصَّحِیحِ فَقَالَ قَالَ لِی عَلِیُّ بْنُ عَبْدِ اللَّہِ ہُوَ ابْنُ الْمَدِینِیِّ فَذَکَرَہُ۔
وَکَذَلِکَ رُوِیَ عَنْ عَطَائِ بْنِ السَّائِبِ عَنْ سَعِیدِ بْنِ جُبَیْرٍ عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ رَضِیَ اللَّہُ عَنْہُمَا۔
[صحیح۔ بخاری ۲۷۸۰]
(٢٠٦٢٥) ابن عباس (رض) فرماتے ہیں کہ بنو سہم کا ایک آدمی تمیم داری اور عدی بن بداء کے ساتھ نکلا۔ سہمی کی موت ایسی جگہ جہاں کوئی مسلمان نہ تھا۔ جب وہ دونوں اس کا ترکہ لے کر آئے تو ایک چاندی کا پیالہ جس پر سونے کی ملاوٹ تھی الگ کرلیا۔ نبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے ان دونوں سے قسمیں لیں۔ پھر وہ پیالہ مکہ سے مل گیا، انھوں نے کہا : ہم نے تمیم و عدی سے خریدا ہے تو سہمی کے دو ورثاء کھڑے ہوئے، انھوں نے قسم اٹھائی کہ ان کی شہادت سے ہماری شہادت کا زیادہ حق ہے کہ ہمارے ساتھی کا پیالہ ان کے پاس ہے، اس کے بارے میں یہ ایک نازل ہوئی : { یٰٓاَیُّھَا الَّذِیْنَ اٰمَنُوْا شَھَادَۃُ بَیْنِکُمْ } [المائدۃ ١٠٦]