(۲۰۶۳۰) وَأَخْبَرَنَا أَبُو نَصْرِ بْنُ قَتَادَۃَ أَنْبَأَنَا أَبُو مَنْصُورٍ النَّضْرَوِیُّ أَنْبَأَنَا أَحْمَدُ بْنُ نَجْدَۃَ حَدَّثَنَا سَعِیدُ بْنُ مَنْصُورٍ حَدَّثَنَا ہُشَیْمٌ وَأَبُو مُعَاوِیَۃَ عَنِ الأَعْمَشِ عَنْ إِبْرَاہِیمَ عَنْ شُرَیْحٍ : أَنَّہُ کَانَ لاَ یُجِیزُ شَہَادَۃَ یَہُودِیٍّ وَلاَ نَصْرَانِیٍّ عَلَی الْمُسْلِمِینَ إِلاَّ فِی الْوَصِیَّۃِ وَلاَ یُجِیزُہَا فِی الْوَصِیَّۃِ إِلاَّ فِی السَّفَرِ۔
وَرَوَی یَحْیَی بْنُ وَثَّابٍ : أَنَّ شُرَیْحًا کَانَ یُجِیزُ شَہَادَۃَ أَہْلِ الْکِتَابِ بَعْضِہِمْ عَلَی بَعْضٍ۔
(٢٠٦٣٠) ابراہیم قاضی شریح سے نقل فرماتے ہیں کہ یہودی یا عیسائی کی گواہی مسلمان کے خلاف صرف وصیت میں معتبر ہے، ویسے نہیں اور یہ بھی سفر کے ساتھ مخصوص ہے۔
(ب) یحییٰ بن وثاب فرماتے ہیں کہ قاضی شریح اہل کتاب کی ایک دوسرے کے مخالف کو گواہی جائز خیال کرتے تھے۔