(۲۰۶۳۱) أَخْبَرَنَا أَبُو أَحْمَدَ الْمِہْرَجَانِیُّ حَدَّثَنَا أَبُو بَکْرِ بْنُ جَعْفَرٍ الْمُزَکِّی حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ إِبْرَاہِیمَ حَدَّثَنَا ابْنُ بُکَیْرٍ حَدَّثَنَا مَالِکٌ عَنْ رَبِیعَۃَ بْنِ أَبِی عَبْدِ الرَّحْمَنِ أَنَّہُ قَالَ : قَدِمَ عَلَی عُمَرَ بْنِ الْخَطَّابِ رَضِیَ اللَّہُ عَنْہُ رَجُلٌ مِنْ قِبَلِ الْعِرَاقِ فَقَالَ جِئْتُکَ لأَمْرٍ مَا لَہُ رَأْسٌ وَلاَ ذَنَبٌ۔ قَالَ عُمَرُ رَضِیَ اللَّہُ عَنْہُ : وَمَا ہُوَ؟ قَالَ : شَہَادَاتُ الزُّورِ ظَہَرَتْ بِأَرْضِنَا۔ قَالَ : وَقَدْ کَانَ ذَلِکَ۔ قَالَ : نَعَمْ۔ قَالَ عُمَرُ بْنُ الْخَطَّابِ رَضِیَ اللَّہُ عَنْہُ : لاَ وَاللَّہِ لاَ یُؤْسَرُ رَجُلٌ فِی الإِسْلاَمِ بِغَیْرِ الْعُدُولِ۔
قَالَ أَبُو عُبَیْدٍ لاَ یُؤْسَرُ یَعْنِی لاَ یُحْبَسُ۔ [صحیح۔ اخرجہ مالک]
(٢٠٦٣١) ربیعہ بن عبدالرحمن فرماتے ہیں کہ حضرت عمر بن خطاب کے پاس عراق سے ایک آدمی آیا، اس نے کہا : میں آپ کے پاس ایسا معاملہ لے کر آیا ہوں جس کی کوئی بنیاد نہیں ہے۔ حضرت عمر (رض) نے پوچھا : وہ کیا ہے ؟ فرمایا : جھوٹی گواہی جو ہمارے علاقہ میں پائی جانے لگی ہے۔ فرمایا : بات ایسے ہی ہے ؟ اس نے کہا : ہاں تو حضرت عمر (رض) فرمانے لگے کہ اسلام میں عادل آدمی کے علاوہ کسی کی گواہی قابلِ قبول نہیں ہے، یعنی گواہی کے بارے میں روکا نہ جائے گا۔