hadith book logo

Sunan Al Bayhaqi: Hadith 2069

.

سنن البيهقي

2069
Sunan Al Bayhaqi
(۲۰۶۹) أَخْبَرَنَا أَبُو نَصْرِ بْنُ قَتَادَۃَ أَخْبَرَنَا أَحْمَدُ بْنُ إِسْحَاقَ بْنِ شَیْبَانَ الْبَغْدَادِیُّ أَخْبَرَنَا مُعَاذُ بْنُ نَجْدَۃَ حَدَّثَنَا خَلاَّدُ بْنُ یَحْیَی حَدَّثَنَا نَافِعٌ یَعْنِی الْجُمَحِیَّ عَنِ ابْنِ أَبِی مُلَیْکَۃَ: أَنَّ عُمَرَ بْنَ الْخَطَّابِ قَدِمَ مَکَّۃَ فَسَمِعَ صَوْتَ أَبِی مَحْذُورَۃَ فَقَالَ: وَیْحَہُ مَا أَشَدَّ صَوْتَہُ أَمَا یَخَافُ أَنْ یَنْشَقَّ مُرَیْطَاؤُہُ۔ قَالَ: فَأَتَاہُ یُؤْذِنُہُ بِالصَّلاَۃِ فَقَالَ: وَیْحَکَ مَا أَشَدَّ صَوْتَکَ أَمَا تَخَافُ أَنْ یَنْشَقَّ مُرْیَطَاؤُکَ۔ فَقَالَ: إِنَّمَا شَدَدْتُ صَوْتِی لِقُدُومِکَ یَا أَمِیرَ الْمُؤْمِنِینَ۔ قَالَ: إِنَّکَ فِی بَلْدَۃٍ حَارَّۃٍ ، فَأَبْرَدْ عَلَی النَّاسِ ثُمَّ أَبْرِدْ مَرَّتَیْنِ أَوْ ثَلاَثًا ، ثُمَّ أَذِّنْ ، ثُمَّ انْزِلْ فَارْکَعْ رَکْعَتَیْنِ ثُمَّ ثَوِّبْ اِقَامَتِکَ۔ [حسن لغیرہ۔ اخرجہ عبدالرزاق ۱۸۵۴]
(٢٠٦٩) ابن ابی ملیکہ سے روایت ہے کہ حضرت عمر بن خطاب (رض) مکہ تشریف لائے۔ انھوں نے ابو محذورہ (رض) کی آواز سنی تو فرمانے لگے : اس کا ناس ہو، کتنی اونچی آواز نکالتا ہے ! کیا اسے ڈر نہیں لگتا کہ اس کا گلا پھٹ جائے گا۔ پھر آپ (رض) ان کے پاس آئے، وہ نماز کے لیے اذان کہہ رہے تھے (یعنی دوران اذان عمر ان کے پاس تشریف لے آئے) اور کہنے لگے : تیرا ناس ہو تو کتنی سخت آواز میں اذان کہہ رہا ہے۔ کیا تجھے ڈر نہیں لگتا کہ تیرا گلا پھٹ جائے گا ؟ ابومحذورہ (رض) کہنے لگے : اے امیرالمومنینـ! میں نے آپ کے آنے کی وجہ سے آواز میں شدت کی ہے۔ آپ (رض) نے فرمایا : تمہارا علاقہ گرم ہے، لہٰذا لوگوں کو تھوڑا دن ڈھلنے پر نماز پڑھایا کرو۔ یہ بات دو یاتین مرتبہ کہی کہ (نماز ٹھنڈے وقت میں ادا کریں) ۔ پھر (جب موسم کی شدت کم ہو تو) اذان کہو، پھر اترکردو رکعتیں ادا کرو، پھر اقامت کہو۔