(۲۰۷۴۱) أَخْبَرَنَا أَبُو نَصْرِ بْنُ قَتَادَۃَ أَنْبَأَنَا أَبُو الْعَبَّاسِ : مُحَمَّدُ بْنُ إِسْحَاقَ بْنِ أَیُّوبَ الصِّبْغِیُّ حَدَّثَنَا الْحَسَنُ بْنُ عَلِیِّ بْنِ زِیَادٍ حَدَّثَنَا ابْنُ أَبِی أُوَیْسٍ حَدَّثَنِی حُسَیْنُ بْنُ عَبْدِ اللَّہِ بْنِ ضُمَیْرَۃَ بْنِ أَبِی ضُمَیْرَۃَ عَنْ أَبِیہِ عَنْ جَدِّہِ عَنْ عَلِیِّ بْنِ أَبِی طَالِبٍ رَضِیَ اللَّہُ عَنْہُ أَنَّہُ قَالَ : الْیَمِینُ مَعَ الشَّاہِدِ فَإِنْ لَمْ یَکُنْ لَہُ بَیِّنَۃٌ فَالْیَمِینُ عَلَی الْمُدَّعَی عَلَیْہِ إِذَا کَانَ قَدْ خَالَطَہُ فَإِنْ نَکَلَ حَلَفَ الْمُدَّعِی۔
(٢٠٧٤١) حضرت علی (رض) سے روایت ہے کہ قسم گواہ کے ساتھ ہوتی ہے۔ اگر دلیل نہ ہو تو پھر قسم اس پر ہے جس کے خلاف دعویٰ کیا گیا ہے۔ جب معاملہ خلط ملط ہو جائییا اگر وہ انکار کرے تو قسم مدعی پر ہے۔