(۲۰۷۴۷) وَقَدْ أَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللَّہِ الْحَافِظُ أَنْبَأَنَا أَبُو عَبْدِ اللَّہِ بْنُ یَعْقُوبَ حَدَّثَنَا إِبْرَاہِیمُ بْنُ مُحَمَّدٍ الصَّیْدَلاَنِیُّ حَدَّثَنَا إِسْحَاقُ بْنُ إِبْرَاہِیمَ أَنْبَأَنَا عَبْدُ الرَّزَّاقِ أَنْبَأَنَا مَعْمَرٌ عَنِ ابْنِ طَاوُسٍ عَنْ أَبِیہِ عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ رَضِیَ اللَّہُ عَنْہُمَا قَالَ : مَا رَأَیْتُ أَشْبَہَ بِاللَّمَمِ مِمَّا قَالَ أَبُو ہُرَیْرَۃَ رَضِیَ اللَّہُ عَنْہُ قَالَ قَالَ رَسُولُ اللَّہِ -ﷺ- : إِنَّ اللَّہَ کَتَبَ عَلَی ابْنِ آدَمَ حَظَّہُ مِنَ الزِّنَا أَدْرَکَ ذَلِکَ لاَ مَحَالَۃَ فَزِنَا الْعَیْنَیْنِ النَّظَرُ وَزِنَا اللِّسَانِ النُّطْقُ وَالنَّفْسُ تَتَمَنَّی وَتَشْتَہِی وَیُصَدِّقُ ذَلِکَ الْفَرْجُ أَوْ یُکَذِّبُہُ ۔
رَوَاہُ الْبُخَارِیُّ فِی الصَّحِیحِ عَنْ مَحْمُودِ بْنِ غَیْلاَنَ عَنْ عَبْدِ الرَّزَّاقِ وَرَوَاہُ مُسْلِمٌ عَنْ إِسْحَاقَ بْنِ إِبْرَاہِیمَ۔
[صحیح۔ متفق علیہ]
(٢٠٧٤٧) ابن عباس (رض) فرماتے ہیں کہ میں نے للم کے مشابہہ کوئی چیز نہیں دیکھی مگر وہ جو ابوہریرہ (رض) فرماتے ہیں کہ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا : اللہ نے ابن آدم پر زنا کا حصہ مقرر کر رکھا ہے، وہ لازمی طور پر اس کو پالے گا، آنکھوں کا زنا دیکھنا ہے۔ زبان کا زنا بولنا۔ نفس کا زنا تمنا کرنا اور خواہش کرنا اور شرم گاہ اس کی تصدیق یا تکذیب کرتی ہے۔