(۲۰۷۶۰) أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ اللَّہِ الْحَافِظُ حَدَّثَنَا أَبُو الْعَبَّاسِ : مُحَمَّدُ بْنُ یَعْقُوبَ أَنْبَأَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ اللَّہِ بْنِ عَبْدِ الْحَکَمِ أَنْبَأَنَا ابْنُ وَہْبٍ أَخْبَرَنِی عَمْرُو بْنُ الْحَارِثِ أَنَّ ابْنَ أَبِی ہِلاَلٍ حَدَّثَہُ أَنَّ نُعَیْمَ بْنَ عَبْدِ اللَّہِ الْمُجْمِرَ حَدَّثَہُ أَنَّ صُہَیْبًا مَوْلَی الْعُتْوَارِیِّینَ حَدَّثَہُ أَنَّہُ سَمِعَ أَبَا سَعِیدٍ الْخُدْرِیَّ وَأَبَا ہُرَیْرَۃَ یُخْبِرَانِ عَنِ النَّبِیِّ -ﷺ- أَنَّہُ جَلَسَ عَلَی الْمِنْبَرِ ثُمَّ قَالَ : وَالَّذِی نَفْسِی بِیَدِہِ ثَلاَثَ مَرَّاتٍ ۔ ثُمَّ سَکَتَ فَأَکَبَّ کُلُّ رَجُلٍ مِنَّا یَبْکِی حَزِینًا لِیَمِینِ رَسُولِ اللَّہِ -ﷺ- ثُمَّ قَالَ : مَا مِنْ عَبْدٍ یَأْتِی الصَّلَوَاتِ الْخَمْسَ وَیَصُومُ رَمَضَانَ وَیَجْتَنِبُ الْکَبَائِرَ السَّبْعَ إِلاَّ فُتِّحَتْ لَہُ أَبْوَابُ الْجَنَّۃِ یَوْمَ الْقِیَامَۃِ حَتی إِنَّہا لَتَصَفَّقُ ۔ ثُمَّ تَلاَ {اِنْ تَجْتَنِبُوْا کَبَآئِرَ مَا تُنْھَوْنَ عَنْہُ نُکَفِّرْ عَنْکُمْ سَیِّاٰتِکُمْ} [النساء ۳۷] فَفِی ہَذِہِ الأَخْبَارِ وَمَا جَانَسَہَا مِنَ التَّغْلِیظِ فِی الْکَبَائِرِ وَالتَّکْفِیرِ عَنِ الصَّغَائِرِ مَا یُؤَکِّدُ قَوْلَ مَنْ فَرَّقَ بَیْنَہُمَا بِرَدِّ شَہَادَۃِ مَنِ ارْتَکَبَ کَبِیرَۃً دُونَ مَنِ ارْتَکَبَ صَغِیرَۃً۔
وَمِنَ الأَخْبَارِ الَّتِی تَدُلُّ عَلَی أَنَّ الصَّغَائِرَ إِذَا کَثُرَتْ بَلَغَتْ بِصَاحِبِہَا مَبْلَغَ مُرْتَکِبِ الْکَبِیرَۃِ فِی رَدِّ الشَّہَادَۃِ وَغَیْرِہِ مَا ۔ [ضعیف]
(٢٠٧٦٠) ابوسعید اور حضرت ابوہریرہ (رض) دونوں نبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) سے نقل فرماتی ہیں کہ آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) منبر پر بیٹھے تھے، پھر فرمایا : اس ذات کی قسم جس کے ہاتھ میں میری جان ہے۔ تین مرتبہ فرمایا، پھر خاموش ہوگئے تو نبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کی دائیں جانب والے بوجہ غم کے رونے لگے۔ پھر آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا : جو بندہ پانچ نمازیں، رمضان کے روزے اور کبیرہ گناہوں سے بچتا ہے تو جنت کے دروازے کھول دیے جائیں گے۔ پھر آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے یہ آیت تلاوت کی : { اِنْ تَجْتَنِبُوْا کَبَآئِرَ مَا تُنْھَوْنَ عَنْہُ نُکَفِّرْ عَنْکُمْ سَیِّاٰتِکُمْ } [النساء ٣٧] ” اگر تم کبیرہ گناہوں سے بچتے رہو تو ہم تمہاری غلطیاں مٹا دیں گے۔ “
(ان اخبار میں) ان احادیث میں کبیرہ گناہوں کی سختی بیان ہوتی ہے اور صغیرہ گناہوں کا کفارہ۔ بعض نے ان کے درمیان فرق کیا ہے کہ مرتکبِ کبیرہ کی شہادت قبول نہیں کرتے جبکہ مرتکبِ صغیرہ کی شہادت قبول ہے۔
ان احادیث میں یہ بھی بیان ہوا ہے کہ جب صغیرہ گناہ کی کثرت ہوجائے تو یہ کبیرہ کے درجہ تک پہنچ جاتے ہیں۔