(۲۰۷۶۳) وَأَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللَّہِ الْحَافِظُ حَدَّثَنَا أَبُو الْعَبَّاسِ : مُحَمَّدُ بْنُ یَعْقُوبَ حَدَّثَنَا بَکَّارُ بْنُ قُتَیْبَۃَ الْقَاضِی بِمِصْرَ حَدَّثَنَا صَفْوَانُ بْنُ عِیسَی أَنْبَأَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عَجْلاَنَ عَنِ الْقَعْقَاعِ بْنِ حَکِیمٍ عَنْ أَبِی صَالِحٍ عَنْ أَبِی ہُرَیْرَۃَ رَضِیَ اللَّہُ عَنْہُ أَنَّ رَسُولَ اللَّہِ -ﷺ- قَالَ : إِنَّ الْمُؤْمِنَ إِذَا أَذْنَبَ ذَنْبًا کَانَتْ نُکْتَۃٌ سَوْدَائُ فِی قَلْبِہِ فَإِنْ تَابَ وَنَزَعَ وَاسْتَغْفَرَ صُقِلَ مِنْہَا قَلْبُہُ فَإِنْ عَادَ رَانَتْ حَتَّی یُغْلَقَ بِہَا قَلْبُہُ فَذَاکَ الَّذِی ذَکَرَ اللَّہُ عَزَّ وَجَلَّ فِی کِتَابِہِ {کَلاَّ بَلْ رَانَ عَلَی قُلُوبِہِمْ مَا کَانُوا یَکْسِبُون} [المطففین ۱۴]۔
قَالَ الشَّیْخُ وَیُشْبِہُ أَنْ تَکُونَ ہَذِہِ الأَخْبَارُ وَمَا جَانَسَہَا فِی التَّغْلِیظِ وَالتَّشْدِیدِ فِیمَنْ أَصَرَّ عَلَی الذُّنُوبِ غَیْرَ مُسْتَغْفَرٍ مِنْہَا وَلاَ مُحَدِّثٍ نَفْسَہُ بِتَرْکِہَا۔ [حسن]
(٢٠٧٦٣) حضرت ابوہریرہ (رض) فرماتے ہیں کہ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا : جب بندہ گناہ کرتا ہے تو اس کے دل پر سیاہ نکتہ لگجاتا ہے، اگر وہ توبہ کرلے اور گناہ چھوڑ دے اور استغفار کرلے تو نکتہ صاف کردیا جاتا ہے۔ اگر وہ دوبارہ گناہ کرتا ہے تو دل زنگ آلود ہوجاتا ہے۔ اس کا تذکرہ اللہ نے اپنی کتاب میں کیا ہے : { کَلاَّ بَلْ رَانَ عَلَی قُلُوبِہِمْ مَا کَانُوا یَکْسِبُون } [المطففین ١٤] ” ہرگز نہیں بلکہ ان کی اپنی کرتوتوں کی وجہ سے ان کے دل زنگ آلود ہوگئے۔ “
شیخ فرماتے ہیں : یہ ان کے لیے ڈانٹ ہے جو گناہوں پر اصرار کرتے ہیں، توبہ استغفار نہیں کرتے اور اپنے دل کو گناہ چھوڑنے پر آمادہ نہیں کرتے۔