(۲۰۷۶۷) أَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللَّہِ الْحَافِظُ حَدَّثَنَا أَبُو الْعَبَّاسِ : مُحَمَّدُ بْنُ یَعْقُوبَ حَدَّثَنَا الْحَسَنُ بْنُ عَلِیِّ بْنِ عَفَّانَ الْعَامِرِیُّ حَدَّثَنَا أَبُو أُسَامَۃَ عَنِ الأَعْمَشِ عَنْ عُمَارَۃَ بْنِ عُمَیْرٍ قَالَ سَمِعْتُ الْحَارِثَ بْنَ سُوَیْدٍ یَقُولُ أَتَیْنَا عَبْدَ اللَّہِ یَعْنِی ابْنَ مَسْعُودٍ فَحَدَّثَنَا بِحَدِیثَیْنِ أَحَدُہُمَا عَنْ رَسُولِ اللَّہِ -ﷺ- وَالآخَرُ عَنْ نَفْسِہِ فَقَالَ قَالَ رَسُولُ اللَّہِ -ﷺ- : لَلَّہُ أَشَدُّ فَرَحًا بِتَوْبَۃِ عَبْدِہِ الْمُؤْمِنِ مِنْ رَجُلٍ قَالَ بِأَرْضٍ فَلاَۃٍ دَوِیَّۃٍ وَمَہْلَکَۃٍ وَمَعَہُ رَاحِلَتُہُ عَلَیْہَا طَعَامُہُ وَشَرَابُہُ فَنَزَلَ فِیہَا فَنَامَ وَرَاحِلَتُہُ عِنْدَ رَأْسِہِ فَاسْتَیْقَظَ وَقَدْ ذَہَبَتْ فَذَہَبَ فِی طَلَبِہَا فَلَمْ یَقْدِرْ عَلَیْہَا حَتَّی أَدْرَکَہُ مِنَ الْعَطَشِ فَقَالَ وَاللَّہِ لأَرْجِعَنَّ فَلأَمُوتَنَّ حَیْثُ کَانَ رَحْلِی فَرَجَعَ فَنَامَ وَاسْتَیْقَظَ وَإِذَا رَاحِلَتُہُ عِنْدَ رَأْسِہِ عَلَیْہَا طَعَامُہُ وَشَرَابُہُ ۔ قَالَ ثُمَّ قَالَ عَبْدُ اللَّہِ إِنَّ الْمُؤْمِنَ یَرَی ذُنُوبَہُ کَأَنَّہُ جَالِسٌ فِی أَصْلِ جَبَلٍ یَخَافُ أَنْ یَنْقَلِبَ عَلَیْہِ وَإِنَّ الْفَاجِرَ یَرَی ذُنُوبَہُ کَذُبَابٍ مَرَّ عَلَی أَنْفِہِ وَقَالَ لَہُ ہَکَذَا فَذَہَبَ وَأَمَرَّ بِیَدِہِ عَلَی أَنْفِہِ
رَوَاہُ مُسْلِمٌ فِی الصَّحِیحِ عَنْ إِسْحَاقَ بْنِ مَنْصُورٍ عَنْ أَبِی أُسَامَۃَ۔
قَالَ الشَّیْخُ وَالْفَرَحُ الْمُضَافُ إِلَی اللَّہِ عَزَّ وَجَلَّ فِی ہَذَا الْحَدِیثِ بِمَعْنَی الرِّضَا وَالْقَبُولِ کَقَوْلِہِ تَعَالَی {کُلُّ حِزْبٍ بِمَا لَدَیْہِمْ فَرِحُونَ} [المومنون ۵۳] یَعْنِی رَاضُونَ کَذَلِکَ ذَکَرَہُ بَعْضُ أَہْلِ الْعِلْمِ وَہُوَ حَسَنٌ وَفِی التَّوْبَۃِ مِنَ الذَّنْبِ أَخْبَارٌ کَثِیرَۃٌ وَلَیْسَ ہَا ہُنَا مَوْضِعُہَا
وَأَمَّا مَنْ خَرَجَ مِنْ أَہْلِ الإِسْلاَمِ مِنْ دَارِ الدُّنْیَا وَقَدْ تَلَوَّثَ بِالذُّنُوبِ وَالْخَطَایَا فَہُوَ فِی مَشِیئَۃِ اللَّہِ تَعَالَی إِنْ شَائَ غَفَرَ لَہُ بِفَضْلِہِ ذُنُوبَہُ صِغَارَہَا وَکِبَارَہَا وَإِنْ شَائَ عَاقَبَہُ بِعَدْلِہِ عَلَی ذُنُوبِہِ ثُمَّ أَخْرَجَہُ مِنْ عُقُوبَتِہِ إِلَی جَنَّتِہِ بِرَحْمَتِہِ أَوْ بِشَفَاعَۃِ الشَّافِعِینَ بِإِذْنِہِ فِی ذَلِکَ أَخْبَارٌ کَثِیرَۃٌ إِلاَّ أَنَّا نُشِیرُ ہَا ہُنَا إِلَی مَا یَقَعُ بِہِ الْبَیَانُ بِتَوْفِیقِ اللَّہِ تَعَالَی۔
(٢٠٧٦٧) حارث بن سوید فرماتے ہیں کہ ہم عبداللہ بن مسعود (رض) کے پاس آئے، انھوں نے ہمیں دو احادیث بیان کیں : ایک نبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) سے مرفوع بیان کی اور دوسری اپنی جانب سے۔ فرماتے ہیں کہ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا : اللہ اپنے بندہ کی توبہ سے اس آدمی سے بڑھ کر خوش ہوتا ہے، جو جنگلی سفر میں ہلاکت کی جگہ پر تھا۔ اس کی سواری پر کھانا، پینا موجود تھا۔ وہ قیام کی غرض سے اترا آرام کرنے کے بعد بیدار ہوا تو سواری غائب تھی۔ تلاش کرنے پر اس کو پا نہ سکا۔ اس کو پیاس نے تنگ کیا۔ اس نے کہا : میں اپنی سواروں والی جگہ واپس پلٹ جاؤں گا یہاں تک کہ موت آجائے۔ وہ اس جگہ پر آ کر سوگیا۔ جب بیدار ہوا اس کی سواری موجود تھی اس کا کھانا، پینا بھی تھا۔ پھر عبداللہ فرماتے ہیں کہ مومن بندہ جب گناہ دیکھتا ہے تو وہ اپنے آپ کو پہاڑ کے نیچے تصور کرتا ہے کہ کہیں اس کے اوپر نہ گرجائے اور گناہ گار اپنے گناہ کو اس طرح خیال کرتا ہے جیسے اس کے ناک پر مکھی ہو وہ اپنے ناک پر ہاتھ پھیر دیتا ہے۔
شیخ فرماتے ہیں : فرح کی نسبت اللہ کی جانب ہے۔ اس سے مراد اللہ کی رضا و قبولیت ہے جیسے { کُلُّ حِزْبٍ بِّمَا لَدَیْہِمْ فَرِحُوْنَ } [المومنون ٥٣] ” ہر گروہ جو اس کے پاس ہے اس پر راضی ہے۔ “ جو دارلسلام کو چھوڑ کر چلا جاتا ہے اور گناہوں میں مصروف ہوجاتا ہے۔ اللہ کی مشیت پر ہے کہ معاف کرے یا سزا دے۔ “