hadith book logo

Sunan Al Bayhaqi: Hadith 20774

.

سنن البيهقي

20774
Sunan Al Bayhaqi
(۲۰۷۶۸) أَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللَّہِ الْحَافِظُ حَدَّثَنَا أَبُو جَعْفَرٍ : مُحَمَّدُ بْنُ صَالِحِ بْنِ ہَانِئٍ حَدَّثَنَا السُّرَیُّ بْنُ خُزَیْمَۃَ حَدَّثَنَا عُمَرُ بْنُ حَفْصِ بْنِ غِیَاثٍ حَدَّثَنَا أَبِی حَدَّثَنَا الأَعْمَشُ حَدَّثَنَا زَیْدُ بْنُ وَہْبٍ حَدَّثَنَا وَاللَّہِ أَبُو ذَرٍّ بِالرَّبَذَۃِ قَالَ : کُنْتُ مَعَ النَّبِیِّ -ﷺ- أَمْشِی فِی حَرَّۃِ الْمَدِینَۃِ عِشَائً فَاسْتَقْبَلَنَا أُحُدٌ فَقَالَ : یَا أَبَا ذَرٍّ مَا أُحِبُّ أَنْ أُحُدًا ذَاکَ لِی ذَہَبًا تَأْتِی عَلَیْہِ لَیْلَۃٌ وَعِنْدِی مِنْہُ دِینَارٌ إِلاَّ دِینَارٌ أَرْصُدُہُ لِدَیْنٍ إِلاَّ أَنْ أَقُولَ بِہِ فِی عِبَادِ اللَّہِ ہَکَذَا وَہَکَذَا ۔ وَأَوْمَأَ بِیَدِہِ ثُمَّ قَالَ : یَا أَبَا ذَرٍّ ۔ قُلْتُ لَبَّیْکَ وَسَعْدَیْکَ یَا رَسُولَ اللَّہِ۔ قَالَ : أَلاَ إِنَّ الأَکْثَرِینَ ہُمُ الأَقَلُّونَ إِلاَّ مَنْ قَالَ ہَکَذَا وَہَکَذَا وَہَکَذَا ۔ ثُمَّ قَالَ لِی : مَکَانَکَ لاَ تَبْرَحْ یَا أَبَا ذَرٍّ حَتَّی أَرْجِعَ إِلَیْکَ ۔ قَالَ : وَانْطَلَقَ حَتَّی غَابَ عَنِّی فَسَمِعْتُ صَوْتًا فَتَخَوَّفْتُ أَنْ یَکُونَ عُرِضَ لِرَسُولِ اللَّہِ -ﷺ- فَأَرَدْتُ أَنْ آتِیَہُ ثُمَّ ذَکَرْتُ قَوْلَہُ لاَ تَبْرَحْ فَقُلْتُ یَا رَسُولَ اللَّہِ سَمِعْتُ صَوْتًا خَشِیتُ أَنْ یَکُونَ عُرِضَ لَکَ ذَاکَ ثُمَّ ذَکَرْتُ قَوْلَکَ فَأَقَمْتُ فَقَالَ النَّبِیُّ -ﷺ- : ذَاکَ جِبْرِیلُ أَتَانِی فَأَخْبَرَنِی أَنَّہُ مَنْ مَاتَ مِنْ أُمَّتِی لاَ یُشْرِکُ بِاللَّہِ شَیْئًا دَخَلَ الْجَنَّۃَ ۔ قُلْتُ : یَا رَسُولَ اللَّہِ وَإِنْ زِنَا وَإِنْ سَرَقَ؟ قَالَ : وَإِنْ زَنَا وَإِنْ سَرَقَ ۔ رَوَاہُ الْبُخَارِیُّ فِی الصَّحِیحِ عَنْ عُمَرَ بْنِ حَفْصِ بْنِ غِیَاثٍ وَأَخْرَجَاہُ مِنْ أَوْجُہٍ أُخَرَ عَنِ الأَعْمَشِ۔ [صحیح۔ متفق علیہ]
(٢٠٧٦٨) زید بن وہب فرماتے ہیں کہ حضرت ابو ذر (رض) نے بیان کیا جو ربذہ میں تھے۔ ہم مدینہ کے پتھریلے علاقے میں چل رہے تھے۔ ہم احد پہاڑ کے سامنے آئے۔ آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا کہ اے ابوذر ! اگر احد پہاڑ سونے کا بنادیا جائے تو میرے پاس ایک رات بھی نہ نکالے، ہاں وہ ایک دینار جو قرض کے لیے رکھ لیا گیا ہو کہ میں اللہ کے بندوں میں اس طرح تقسیم کر دوں اور اپنے ہاتھ سے اشارہ کیا، پھر فرمایا : اے ابوذر ! کہتے ہیں : اے اللہ کے رسول ! حاضر ہوں حاضر ہوں۔ خبردار ! بہت سارے لوگ مالدار ہوتے ہیں لیکن مال کے اعتبار سے کم ہوتے ہیں لیکن جس نے اس طرح خرچ کردیا، پھر آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے مجھے فرمایا : اے ابوذر ! اپنی جگہ رہنا میں تیرے پاس آتا ہوں اور آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) چلے، مجھ سے چھپ گئے، میں نے آواز سنی تو میں ڈرا کہ نبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے لیے کوئی معاملہ پیش نہ آجائے، میں نے ارادہ کیا کہ آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے پاس آؤں، لیکن آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کی بات یاد آگئی جو آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا تھا کہ ابوذر اپنی جگہ رہنا۔ میں نے کہا : اے اللہ کے رسول ! میں نے آواز سنی تھی، میں ڈرا کہ کوئی معاملہ پیش نہ آئے۔ پھر آپ کی بات یاد آگئی تو میں ٹھہر گیا۔ آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا : یہ جبرائیل ہیں اس نے مجھے خبر دی کہ میری امت کا جو فرد فوت ہوگیا اور اللہ کے ساتھ اس نے شرک نہ کیا تو ہو وہ جنت میں داخل ہوگا۔ میں نے کہا : اگرچہ اس نے زنا اور چوری بھی کی ہو، آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا : اگر اس نے زنا اور چوری بھی کی ہو۔