(۲۰۷۸) أَخْبَرَنَا أَبُو الْحَسَنِ: عَلِیُّ بْنُ أَحْمَدَ بْنِ عَبْدَانَ أَخْبَرَنَا أَحْمَدُ بْنُ عُبَیْدٍ الصَّفَّارُ حَدَّثَنَا عُبَیْدُ بْنُ شَرِیکٍ الْبَزَّارُ حَدَّثَنَا یَحْیَی بْنُ بُکَیْرٍ حَدَّثَنَا اللَّیْثُ عَنْ یَزِیدَ بْنِ أَبِی حَبِیبٍ عَنْ أُسَامَۃَ بْنِ زَیْدٍ عَنِ ابْنِ شِہَابٍ عَنْ عُرْوَۃَ قَالَ أَخْبَرَنِی بَشِیرُ بْنُ أَبِی مَسْعُودٍ الأَنْصَارِیُّ عَنْ أَبِی مَسْعُودٍ أَنَّہُ قَالَ: رَأَیْتُ رَسُولَ اللَّہِ -ﷺ- یُصَلِّی الظُّہْرَ حِینَ زَاغَتِ الشَّمْسُ وَرُبَّمَا أَخَّرَہَا فِی شِدَّۃِ الْحَرِّ وَالْعَصْرُ وَالشَّمْسُ مُرْتَفِعَۃٌ ، یَسِیرُ الرَّجُلُ حِینَ یَنْصَرِفُ مِنْہَا إِلَی ذِی الْحُلَیْفَۃِ سِتَّۃَ أَمْیَالٍ قَبْلَ غُرُوبِ الشَّمْسِ۔ وَذَکَرَ الْحَدِیثَ۔ [صحیح]
(٢٠٧٨) حضرت ابو مسعود (رض) سے روایت ہے کہ میں نے رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کو دیکھا۔ آپ ظہر کی نماز سورج ڈھلنے کے بعد پڑھتے تھے۔ البتہ کبھی کبھار سخت گرمی میں تھوڑا مؤخر بھی کرلیا کرتے تھے اور عصر ایسے وقت میں پڑھتے تھے کہ سورج بالکل واضح ہوتا، (یعنی اس کی تپش موجود ہوتی تھی) ۔ آدمی نماز سے فارغ ہونے کے بعد ذوالحلیفہ تک غروبِ آفتاب سے پہلے پہنچ جاتا جب کہ وہ مدینہ سے چھ میل کی مسافت پر ہے۔ پھر مکمل حدیث ذکر کی۔