(۲۰۷۹) أَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللَّہِ الْحَافِظُ وَأَبُو سَعِیدِ بْنُ أَبِی عَمْرٍو قَالاَ حَدَّثَنَا أَبُو مُحَمَّدٍ: أَحْمَدُ بْنُ عَبْدِ اللَّہِ الْمُزَنِیُّ أَخْبَرَنَا أَبُو الْحَسَنِ: عَلِیُّ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ عِیسَی الْخُزَاعِیُّ أَخْبَرَنَا أَبُو الْیَمَانِ: الْحَکَمُ بْنُ نَافِعٍ الْحِمْصِیُّ فِی سَنَۃِ إِحْدَی وَعِشْرِینَ وَمِائَتَیْنِ حَدَّثَنِی أَبُو بِشْرٍ: شُعَیْبُ بْنُ دِینَارٍ أَبِی حَمْزَۃَ الْقُرَشِیُّ عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ مُسْلِمِ بْنِ عَبْدِ اللَّہِ بْنِ شِہَابٍ الزُّہْرِیِّ قَالَ سَمِعْتُ عُرْوَۃَ بْنَ الزُّبَیْرِ یُحَدِّثُ عُمَرَ بْنَ عَبْدِ الْعَزِیزِ فِی إِمَارَتِہِ وَکَانَ عُمَرُ یُؤَخِّرَ الصَّلاَۃَ فِی ذَلِکَ الزَّمَانِ فَقَالَ لَہُ عُرْوَۃُ: أَخَّرَ الْمُغِیرَۃُ بْنُ شُعْبَۃَ صَلاَۃَ الْعَصْرِ یَوْمًا وَہُوَ أَمِیرُ الْکُوفَۃِ ، فَدَخَلَ عَلَیْہِ أَبُو مَسْعُودٍ: عُقْبَۃُ بْنُ عَمْرٍو الأَنْصَارِیُّ وَہْوَ جَدُّ زَیْدِ بْنِ الْحَسَنِ أَبُو أُمِّہِ وَکَانَ مِمَّنْ شَہِدَ بَدْرًا فَقَالَ: مَا ہَذَا یَا مُغِیرَۃُ؟ أَمَا وَاللَّہِ لَقَدْ عَلِمْتَ لَقَدْ نَزَلَ جِبْرِیلُ عَلَیْہِ السَّلاَمُ فَصَلَّی فَصَلَّی النَّبِیُّ -ﷺ- ثُمَّ صَلَّی فَصَلَّی النَّبِیُّ -ﷺ- ثُمَّ صَلَّی فَصَلَّی النَّبِیُّ -ﷺ- خَمْسَ صَلَوَاتٍ ثُمَّ قَالَ: ہَکَذَا أُمِرْتُ۔ فَفَزِعَ عُمَرُ حِینَ حَدَّثَہُ عُرْوَۃُ بْنُ الزُّبَیْرِ بِذَلِکَ وَقَالَ: اعْلَمْ مَا تُحَدِّثُ بِہِ یَا عُرْوَۃُ ، إِنَّ جِبْرِیلَ لَہُوَ أَقَامَ لَہُمْ وَقْتَ الصَّلاَۃِ؟ قَالَ عُرْوَۃُ: کَذَلِکَ کَانَ بَشِیرُ بْنُ أَبِی مَسْعُودٍ یُحَدِّثُ عَنْ أَبِیہِ۔
قَالَ عُرْوَۃُ وَلَقَدْ حَدَّثَتْنِی عَائِشَۃُ أَنَّ رَسُولَ اللَّہِ -ﷺ- کَانَ یُصَلِّی صَلاَۃَ الْعَصْرَ وَالشَّمْسُ فِی حُجْرَتِہَا قَبْلَ أَنْ تَظْہَرَ الشَّمْسُ ، فَلَمْ یَزَلْ عُمَرُ بْنُ عَبْدِ الْعَزِیزِ مِنْ ذَلِکَ الْیَوْمِ یَتَعَلَّمُ وَقْتَ الصَّلاَۃِ بِعَلاَمَۃٍ حَتَّی فَارَقَ الدُّنْیَا۔ [صحیح]
(٢٠٧٩) (ا) امام زہری سے روایت ہے کہ میں نے حضرت عروہ بن زبیر (رح) کو عمر بن عبدالعزیز کے دور خلافت میں ان سے حدیث بیان کرتے ہوئے سنا۔ جب کہ عمر بن العزیز اس زمانے میں عصر کی نماز موخر کر کے پڑھا کرتے تھے۔ عروہ نے ان سے کہا : ایک دن مغیرہ بن شعبہ (رض) نے عصر کی نماز موخر کر کے ادا کی جب کہ وہ کوفہ کے امیر تھے۔ ان کے پاس ابو مسعود عقبہ بن عمرو انصاری (رض) جو زید بن حسن کے نانا تھے اور بدری صحابی تھے، تشریف لائے۔ فرمانے لگے : مغیرہ ! یہ کیا ماجرا ہے ؟ اللہ کی قسم ! آپ جانتے ہیں کہ جبرائیل (علیہ السلام) نازل ہوئے تھے اور انھوں نے نماز پڑھی، پھر نبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے بھی نماز پڑھی۔ انھوں نے پھر نماز پڑھی اور آقا (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے بھی پانچ نمازیں ادا کیں۔ پھر جبرائیل (علیہ السلام) کہنے لگے : مجھے اسی طرح حکم دیا گیا ہے۔ جب عروہ بن زبیر (رح) نے عمر (رض) کے سامنے یہ حدیث بیان کی تو عمر پریشان ہوگئے اور کہنے لگے : اے عروہ ! غور کرو ! جو تم بیان کرتے ہو کیا واقعی یقیناً جبرائیل (علیہ السلام) نے ان کے لیے نماز کے اوقات مقرر کیے تھے ؟ عروہ نے کہا : ہاں ! بشیر بن ابو مسعود بھی اپنے والد سے اسی طرح نقل فرماتے ہیں۔
(ب) حضرت عروہ فرماتے ہیں کہ سیدہ عائشہ (رض) نے مجھے حدیث بیان کی کہ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) عصر کی نماز پڑھاتے تھے اور سورج (کی شعاعیں) ان کے حجرے میں ہوتی تھیں، یعنی سورج کا سایہ ظاہر ہونے سے پہلے۔ اس دن کے بعد عمر بن عبدالعزیز (رح) نماز کا وقت سورج کی اسی نشانی سے پہچانتے تھے حتیٰ کہ اس دنیا سے کوچ کر گئے۔