(۲۰۸۱۳) أَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللَّہِ الْحَافِظُ أَنْبَأَنَا أَبُو بَکْرِ بْنُ دَاوُدَ الزَّاہِدُ حَدَّثَنَا الْحَسَنُ بْنُ سُفْیَانَ حَدَّثَنِی الْمُنْتَجِعُ بْنُ مُصْعَبٍ حَدَّثَنَا غُنْدَرٌ عَنْ شُعْبَۃَ عَنْ حَبِیبٍ التَّمِیمِیِّ : أَنَّ مُعَاوِیَۃَ سَأَلَ رَجُلاً مِنْ عَبْدِ الْقَیْسِ مَا تَعُدُّونَ الْمُرُوئَ ۃَ فِیکُمْ؟ قَالَ : الْحِرْفَۃُ وَالْعِفَّۃُ۔
وَرُوِّینَا عَنْ أَبِی سَوَّارٍ قَالَ قِیلَ لِمُعَاوِیَۃَ: مَا الْمُرُوئَ ۃُ؟ قَالَ: الْعَفَافُ فِی الدِّینِ وَإِصْلاَحٌ فِی الْمَعِیشَۃِ۔ [حسن]
(٢٠٨١٣) حبیب تمیمی بیان کرتے ہیں کہ معاویہ نے عبدالقیس کے ایک آدمی سے پوچھا : مروت کو تم کس میں شمار کرتے ہو ؟ کہنے لگا : حرفت اور عفت میں شمار کرتے ہیں۔
(ب) ابوسوار سے روایت ہے کہ معاویہ سے کہا گیا کہ مروت کیا ہے ؟ فرمایا : دین میں پاک دامنی اختیار کرنا اور معیشت کی اصلاح کرنا۔