(۲۰۸۱۴) وَأَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللَّہِ الْحَافِظُ قَالَ سَمِعْتُ أَبَا بَکْرِ بْنَ الْمُؤَمَّلِ یَقُولُ سَمِعْتُ أَبَا عَبْدِ اللَّہِ : مُحَمَّدُ بْنُ یَعْقُوبَ الْفَارِسِیُّ یَقُولُ قَرَأْتُ فِی بَعْضِ الْکُتُبِ : أَنَّ یَزِیدَ بْنَ مُعَاوِیَۃَ سَأَلَ الأَحْنَفَ بْنَ قَیْسٍ عَنِ الْمُرُوئَ ۃِ فَقَالَ الأَحْنَفُ : الْمُرُوئَ ۃُ الْتُّقَی وَالاِحْتِمَالُ ثُمَّ أَطْرَقَ الأَحْنَفُ سَاعَۃً وَقَالَ
وَإِذَا جَمِیلُ الْوَجْہِ لَمْ
یَأْتِ الْجَمِیلَ
فَمَا جَمَالُہُ مَا خَیْرُ أَخْلاَقِ الْفَتَی
إِلاَّ تُقَاہُ وَاحْتِمَالُہُ۔
فَقَالَ یَزِیدُ : أَحْسَنْتَ یَا أَبَا بَحْرٍ وَافَقَ الْیَمُّ زِیرًا۔ قَالَ الأَحْنَفُ : ہَلاَّ قُلْتَ وَافَقَ الْمَعْنَی تَفْسِیرًا۔ [ضعیف]
(٢٠٨١٤) محمد بن یعقوب فارسی کہتے ہیں کہ میں نے بعض کتب میں پڑھا کہ یزید بن معاویہ نے احنف بن قیس سے مروت کے بارے میں پوچھا تو احنف کہنے لگے کہ اس سے مراد تقوی اور پاک دامن رہنا ہے۔ پھر تھوڑی دیر کے بعد یہ شعر پڑھا۔ ” جب خوبصورت آدمی خوبصورت کام نہ کرے۔ اس کا جمال اور نوجوان کے اخلاق میں بھلائی نہیں ہے۔ “ سوائے تقویٰ کے یزید نے کہا : بہت خوب اے ابو بحر ! سمندر کے موافق ہوگیا ۔ اصنف نے کہا : تو نے یہ کیوں نہ کہا : معنی تفسیر کے موافق ہوگیا۔