(۲۰۸۲) وَأَخْبَرَنَا أَبُو صَالِحِ بْنُ أَبِی طَاہِرٍ حَدَّثَنَا جَدِّی یَحْیَی بْنُ مَنْصُورٍ حَدَّثَنَا أَحْمَدُ بْنُ سَلَمَۃَ حَدَّثَنَا إِسْحَاقُ بْنُ إِبْرَاہِیمَ حَدَّثَنَا أَبُو مُعَاوِیَۃَ حَدَّثَنَا ہِشَامُ بْنُ عُرْوَۃَ فَذَکَرَہُ وَقَالَ: وَالشَّمْسُ بَیْضَائُ فِی قَعْرِ حُجْرَتِی طَالِعَۃً۔
قَالَ الشَّافِعِیُّ عُقَیْبَ حَدِیثِ مَالِکٍ: وَہَذَا مِنْ أَبْیَنِ مَا رُوِیَ فِی أَوَّلِ الْوَقْتِ لأَنَّ حُجَرَ أَزْوَاجِ النَّبِیِّ -ﷺ- فِی مَوْضِعٍ مُنْخَفِضٍ مِنَ الْمَدِینَۃِ وَلَیْسَتْ بِالْوَاسِعَۃِ وَذَلِکَ أَقْرَبُ لَہَا مِنْ أَنْ تَرْتَفِعَ الشَّمْسُ مِنْہَا فِی أَوَّلِ وَقْتِ الْعَصْرِ۔ [صحیح۔ اخرجہ البخاری ۵۲۰]
(٢٠٨٢) (ا) ہشام بن عروہ نے ہمیں مکمل حدیث ذکر کی۔ نیز فرمایا : سورج روشن ہوتا، یعنی میرے حجرے میں چمک رہا ہوتا۔
(ب) امام شافعی مالک کی حدیث ذکر کر کے فرماتے ہیں کہ اول وقت کے بارے میں جتنی روایات ہیں ان میں یہ روایت سب سے واضح ہے، کیونکہ نبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کی ازواجِ مطہرات کے حجرے ایسے مقام پر تھے جو مدینہ کا نشیبی علاقہ تھا نہ کہ کسی وسیع و عریض اور بلند مقام پر، اسی وجہ سے سورج عصر کے ابتدائی وقت میں بلند معلوم ہوتا تھا۔