(۲۰۸۳۲) وَأَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللَّہِ الْحَافِظُ أَنْبَأَنَا أَحْمَدُ بْنُ جَعْفَرٍ الْقَطِیْعِیُّ حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّہِ بْنُ أَحْمَدَ بْنِ حَنْبَلٍ حَدَّثَنِی أَبِی حَدَّثَنَا یَعْقُوبُ بْنُ إِبْرَاہِیمَ بْنِ سَعْدٍ حَدَّثَنَا أَبِی عَنْ صَالِحِ بْنِ کَیْسَانَ حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ مُسْلِمِ بْنِ عُبَیْدِ اللَّہِ بْنِ شِہَابٍ أَنَّ حُمَیْدَ بْنَ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ عَوْفٍ أَخْبَرَہُ أَنَّ أُمَّہُ أُمَّ کُلْثُومِ بِنْتَ عُقْبَۃَ أَخْبَرَتْہُ أَنَّہَا سَمِعَتْ رَسُولَ اللَّہِ -ﷺ- یَقُولُ : لَیْسَ الْکَذَّابُ الَّذِی یُصْلِحُ بَیْنَ النَّاسِ فَیَنْمِی خَیْرًا أَوْ یَقُولُ خَیْرًا ۔
وَقَالَتْ لَمْ أَسْمَعْہُ یُرَخِّصُ فِی شَیْئٍ مِمَّا یَقُولُ النَّاسُ إِلاَّ فِی ثَلاَثٍ فِی الْحَرْبِ وَالإِصْلاَحِ بَیْنَ النَّاسِ وَحَدِیثِ الرَّجُلِ امْرَأَتَہُ وَحَدِیثِ الْمَرْأَۃِ زَوْجَہَا قَالَ وَکَانَتْ أُمُّ کُلْثُومِ بِنْتُ عُقْبَۃَ مِنَ الْمُہَاجِرَاتِ اللاَّتِی بَایَعْنَ رَسُولَ اللَّہِ -ﷺ-۔
رَوَاہُ الْبُخَارِیُّ فِی الصَّحِیحِ عَنْ عَبْدِ الْعَزِیزِ بْنِ عَبْدِ اللَّہِ عَنْ إِبْرَاہِیمَ بْنِ سَعْدٍ مُخْتَصَرًا وَرَوَاہُ مُسْلِمٌ عَنْ عَمْرٍو النَّاقِدِ عَنْ یَعْقُوبَ بِتَمَامِہِ وَأَخْرَجَہُ مِنْ حَدِیثِ یُونُسَ عَنِ ابْنِ شِہَابٍ إِلَی قَوْلِہِ : وَیَنْمِی خَیْرًا ۔ ثُمَّ جَعَلَ الْبَاقِیَ مِنْ قَوْلِ ابْنِ شِہَابٍ۔ [صحیح۔ تقدم قبلہ]
(٢٠٨٣٢) حمید بن عبدالرحمن بن عوف فرماتے ہیں کہ ان کی والدہ ام کلثوم بنت عقبہ نے ان کو خبر دی کہ اس نے رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) سے سنا، آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) فرما رہے تھے : وہ آدمی جھوٹا نہیں ہوتا جو بھلائی کو آگے پھیلاتا ہے یا بھلائی کی بات کرتا ہے اور بیان کرتی ہیں کہ جھوٹ کی اجازت صرف تین مواقع میں ملتی ہے :1 لڑائی میں 2 لوگوں کے درمیان صلح کروانے میں 3 عورت کا اپنے خاوند اور خاوند کا اپنی عورت کے لیے۔ ام کلثوم ابتدائی مہاجرین میں سے ہے جنہوں نے نبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کی بیعت کی۔