(۲۰۸۴) أَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللَّہِ الْحَافِظُ وَأَبُو عَبْدِ اللَّہِ: إِسْحَاقُ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ یُوسُفَ السُّوسِیُّ قَالاَ حَدَّثَنَا أَبُو الْعَبَّاسِ: مُحَمَّدُ بْنُ یَعْقُوبَ حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عَوْفٍ حَدَّثَنَا أَبُو الْمُغِیرَۃِ حَدَّثَنَا الأَوْزَاعِیُّ
(ح) وَأَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللَّہِ الْحَافِظُ وَأَبُو عَبْدِ اللَّہِ السُّوسِیُّ قَالاَ حَدَّثَنَا أَبُو الْعَبَّاسِ حَدَّثَنَا سَعِیدُ بْنُ عُثْمَانَ التَّنُوخِیُّ حَدَّثَنَا بِشْرُ بْنُ بَکْرٍ حَدَّثَنِی الأَوْزَاعِیُّ حَدَّثَنِی أَبُو النَّجَاشِیِّ حَدَّثَنِی رَافِعُ بْنُ خَدِیجٍ قَالَ: کُنَّا نُصَلِّی مَعَ رَسُولِ اللَّہِ -ﷺ- صَلاَۃَ الْعَصْرِ ثُمَّ تُنْحَرُ الْجَزُورُ فَتُقْسَمُ عَشْرَ قِسَمٍ ، ثُمَّ تُطْبَخُ فَنَأْکُلُ لَحْمًا نَضِیجًا قَبْلَ أَنْ تَغِیبَ الشَّمْسُ۔
رَوَاہُ الْبُخَارِیُّ فِی الصَّحِیحِ عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ یُوسُفَ عَنِ الأَوْزَاعِیِّ وَرَوَاہُ مُسْلِمٌ عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ مِہْرَانَ الرَّازِیِّ عَنِ الْوَلِیدِ بْنِ مُسْلِمٍ عَنِ الأَوْزَاعِیِّ۔
وَہَذِہِ الرِّوَایَۃُ الصَّحِیحَۃُ عَنْ رَافِعِ بْنِ خَدِیجٍ تَدُلُّ عَلَی خَطَإِ مَا رَوَاہُ عَبْدُ الْوَاحِدِ أَوْ عَبْدُ الْحَمِیدِ بْنُ نَافِعٍ أَوْ نُفَیْعٍ الْکِلاَبِیُّ عَنِ ابْنِ رَافِعِ بْنِ خَدِیجٍ عَنْ أَبِیہِ: أَنَّ رَسُولَ اللَّہِ -ﷺ- کَانَ یَأْمُرْہُمْ بِتَأْخِیرِ الْعَصْرِ۔ وَہُوَ مُخْتَلَفٌ فِی اسْمِہِ وَاسْمِ أَبِیہِ وَاخْتُلِفَ عَلَیْہِ فِی اسْمِ ابْنِ رَافِعٍ فَقِیلَ فِیہِ عَبْدُ اللَّہِ وَقِیلَ عَبْدُ الرَّحْمَنِ۔
قَالَ الْبُخَارِیُّ: لاَ یُتَابَعُ عَلَیْہِ وَاحْتَجَّ عَلَی خَطَئِہِ بِحَدِیثِ أَبِی النَّجَاشِیِّ عَنْ رَافِعٍ۔ وَقَالَ أَبُو الْحَسَنِ الدَّارَقُطْنِیُّ فِیمَا أَخْبَرَنَا أَبُو بَکْرِ بْنُ الْحَارِثِ عَنْہُ: ہَذَا حَدِیثٌ ضَعِیفُ الإِسْنَادِ وَالصَّحِیحُ عَنْ رَافِعٍ وَغَیْرِہِ ضِدُّ ہَذَا۔ [صحیح۔ اخرجہ البخاری ۲۳۵۳]
(٢٠٨٤) حضرت رافع بن خدیج (رض) سے روایت ہے کہ ہم رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے ساتھ عصر کی نماز ادا کرتے، پھر اونٹ ذبح کیا جاتا اور اس کو دس حصوں میں تقسیم کردیا جاتا۔ پھر اس کو پکایا جاتا اور ہم سورج غروب ہونے سے پہلے گوشت کھالیا کرتے تھے۔
(ب) رافع بن خدیج کی یہ روایت صحیح ہے اور وہ روایت درست نہیں جسے عبدالواحد یا عبدالحمید بن نافع یا نفیع کلابی نے ابن رافع بن خدیج سے اور اس نے اپنے باپ سے روایت کیا ہے، یعنی رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) عصر کی نماز کو تاخیر کے ساتھ ادا کرنے کا حکم فرماتے تھے، کیونکہ اس راوی اور اس کے باپ کے نام میں اختلاف ہے۔