(۲۰۸۳۴) حَدَّثَنَا أَبُو الْحَسَنِ : مُحَمَّدُ بْنُ الْحُسَیْنِ الْعَلَوِیُّ إِمْلاَئً أَنْبَأَنَا أَبُو حَامِدِ ابْنُ الشَّرْقِیِّ حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عُقَیْلٍ وَأَحْمَدُ بْنُ حَفْصٍ قَالاَ حَدَّثَنَا حَفْصُ بْنُ عَبْدِ اللَّہِ حَدَّثَنِی إِبْرَاہِیمُ بْنُ طَہْمَانَ عَنْ مُوسَی بْنِ عُقْبَۃَ أَخْبَرَنِی أَبُو الزِّنَادِ عَنِ الأَعْرَجِ عَنْ أَبِی ہُرَیْرَۃَ قَالَ قَالَ رَسُولُ اللَّہِ -ﷺ- : إِنَّ إِبْرَاہِیمَ خَلِیلَ الرَّحْمَنِ لَمْ یَکْذِبْ قَطُّ إِلاَّ ثَلاَثَ کَذَبَاتٍ قَوْلُہُ فِی آلِہَتِہِمْ {بَلْ فَعَلَہُ کَبِیرُہُمْ ہَذَا} وَقَوْلُہُ حِینَ دَعَوْہُ إِلَی أَنْ یُحَاجَّ آلِہَتَہُمْ {إِنِّی سَقِیمٌ} وَقَوْلُہُ لِسَارَۃَ أُخْتِی ۔
ہَذَا حَدِیثٌ ثَابِتٌ قَدْ أَخْرَجَاہُ فِی الصَّحِیحِ مِنْ حَدِیثِ ابْنِ سِیرِینَ عَنْ أَبِی ہُرَیْرَۃَ۔
وَقَوْلُہُ {بَلْ فَعَلَہُ کَبِیرُہُمْ ہَذَا} خَرَجَ مَخْرَجَ التَّفْرِیعِ وَالْبَیَانِ أَنَّ آلِہَتَہُمْ لاَ صُنْعَ لَہَا وَقَوْلُہُ {إِنِّی سَقِیمٌ} عَلَی مَعْنَی أَنَّہُ سَیَسْقَمُ وَقَوْلُہُ لِسَارَۃَ أُخْتِی عَلَی مَعْنَی أُخُوَّۃِ الإِسْلاَمِ وَاللَّہُ أَعْلَمُ۔ [صحیح۔ تقدم قبلہ]
(٢٠٨٣٤) حضرت ابوہریرہ (رض) فرماتے ہیں کہ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا : حضرت ابراہیم (علیہ السلام) نے صرف تین جھوٹ بولے : 1 ان کے معبودوں کے بارے میں کہا : { بَلْ فَعَلَہٗ کَبِیْرُھُمْ ھٰذَا } [الانبیاء ٦٣] بلکہ ان کے بڑے نے کیا ہے۔ 2 جس وقت انھوں نے ان کو اپنے معبودوں کی طرف دعوت دی تو فرمانے لگے : { انی سقیم } [الصافات ٨٩] ” میں بیمار ہوں۔ “ 3 سارہ کو اپنی بہن کہا۔
(ب) ابن سیرین حضرت ابوہریرہ (رض) سے نقل فرماتے ہیں : { بَلْ فَعَلَہٗ کَبِیْرُھُمْ ھٰذَا } [الانبیاء ٦٣] ” بلکہ ان کے بڑے نے کیا ہے۔ “ یہ مقصود کا تھا کہ ان کے معبود کچھ بنا نہیں سکتے۔ (اور انی سقیم کا معنی کہ وہ عنقریب بیمار ہوجائیں گے، سارہ کو بہن قرار دیاتو وہ اسلامی رشتہ تھا۔