(۲۰۸۸۰) أَخْبَرَنَا أَبُو عُبَیْدِ اللَّہِ بْنُ بُرْہَانَ وَأَبُو الْحُسَیْنِ بْنُ الْفَضْلِ الْقَطَّانُ وَأَبُو مُحَمَّدٍ السُّکَّرِیُّ بِبَغْدَادَ قَالُوا أَنْبَأَنَا إِسْمَاعِیلُ بْنُ مُحَمَّدٍ الصَّفَّارُ حَدَّثَنَا الْحَسَنُ بْنُ عَرَفَۃَ حَدَّثَنَا مَرْوَانُ بْنُ شُجَاعٍ الْجَزَرِیُّ عَنْ عَبْدِ الْمَلِکِ بْنِ جُرَیْجٍ عَنْ عَطَائِ بْنِ أَبِی رَبَاحٍ قَالَ : أَتَیْتُ ابْنَ عَبَّاسٍ وَہُوَ یَنْزِعُ فِی زَمْزَمَ قَدِ ابْتَلَّتْ أَسَافِلُ ثِیَابِہِ فَقُلْتُ لَہُ قَدْ تُکُلِّمَ فِی الْقَدَرِ فَقَالَ : أَوَقَدْ فَعَلُوہَا؟ فَقُلْتُ نَعَمْ قَالَ فَوَاللَّہِ مَا نَزَلَتْ ہَذِہِ الآیَۃُ إِلاَّ فِیہِمْ {ذُوقُوا مَسَّ سَقَرَ إِنَّا کُلَّ شَیْئٍ خَلَقْنَاہُ بِقَدَرٍ} [القمر ۴۸۔ ۴۹] أُولَئِکَ شِرَارُ ہَذِہِ الأُمَّۃِ لاَ تَعُودُوا مَرْضَاہُمْ وَلاَ تُصَلُّوا عَلَی مَوْتَاہُمْ إِنْ أَرَیْتَنِی أَحَدًا مِنْہُمْ فَقَأْتُ عَیْنَیْہِ بِإِصْبَعَیَّ ہَاتَیْنِ۔ [حسن]
(٢٠٨٨٠) عطاء بن ابی رباح کہتے ہیں : میں ابن عباس (رض) کے پاس آیا، وہ آب زمزم نکال رہے تھے۔ ان کے کپڑوں کے نیچے والا حصہ تر ہوچکا تھا۔ میں نے کہا : تقدیر کے بارے میں بات کی گئی ہے۔ فرمانے لگے : کیا ؟ انھوں نے ایسا کیا ہے ؟ میں نے کہا : ہاں۔ فرمانے لگے : اللہ کی قسم ! یہ آیت ان کے بارے میں نازل ہوئی : { ذُوْقُوْا مَسَّ سَقَرَ ۔ اِنَّا کُلَّ شَیْئٍ خَلَقْنَاہُ بِقَدَرٍ ۔ } [القمر ٤٨۔ ٤٩] یہ اس امت کے بدترین لوگ ہیں۔ ان کے بیماروں کی تیماداری نہ کرو۔ ان کی نماز جنازہ نہ پڑھو۔ اگر ان میں سے میں کسی کو دیکھ لیتا تو اپنی انگلیوں کے ساتھ ان کی آنکھیں نکال دیتا۔