(۲۰۸۸۳) أَخْبَرَنَا أَبُو نَصْرِ بْنُ قَتَادَۃَ أَنْبَأَنَا أَبُو عَمْرِو بْنُ نُجَیْدٍ حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ إِبْرَاہِیمَ حَدَّثَنَا یَحْیَی بْنُ بُکَیْرٍ حَدَّثَنَا مَالِکٌ عَنْ عَمِّہِ أَبِی سُہَیْلِ بْنِ مَالِکٍ أَنَّہُ قَالَ : کُنْتُ أَسِیرُ مَعَ عُمَرَ بْنِ عَبْدِ الْعَزِیزِ رَضِیَ اللَّہُ عَنْہُ فَقَالَ : مَا رَأْیُکَ فِی ہَؤُلاَئِ الْقَدَرِیَّۃِ؟ قَالَ قُلْتُ أَرَی أَنْ تَسْتَتِیبَہُمْ فَإِنْ قَبِلُوا وَإِلاَّ عَرَضْتَہُمْ عَلَی السَّیْفِ فَقَالَ عُمَرُ بْنُ عَبْدِ الْعَزِیزِ : ذَلِکَ رَأْیِی۔
قَالَ مَالِکٌ وَذَلِکَ أَیْضًا رَأْیِی۔ [صحیح۔ اخرجہ مالک ۱۶۶۵]
(٢٠٨٨٣) مالک اپنے چچا سہیل بن مالک سے نقل فرماتے ہیں کہ میں عمر بن عبدالعزیز کے ساتھ چل رہا تھا، فرمانے لگے : قدریہ کے بارے میں آپ کا کیا خیال ہے ؟ کہنے لگے : میں ان سے توبہ طلب کروں گا، اگر وہ قبول کرلیں تو ٹھیک وگرنہ میں ان کو تلوار پر پیش کروں گا تو عمر بن عبدالعزیز کہنے لگے : میری بھی یہی رائے ہے، امام مالک (رح) فرماتے ہیں : میری بھی یہی رائے ہے۔