hadith book logo

Sunan Al Bayhaqi: Hadith 20954

.

سنن البيهقي

20954
Sunan Al Bayhaqi
(۲۰۹۴۸) أَخْبَرَنَا أَبُو الْحُسَیْنِ بْنُ الْفَضْلِ الْقَطَّانُ بِبَغْدَادَ أَنْبَأَنَا أَبُو سَہْلِ بْنُ زِیَادٍ الْقَطَّانُ حَدَّثَنَا إِسْحَاقُ بْنُ الْحَسَنِ الْحَرْبِیُّ حَدَّثَنَا عَفَّانُ حَدَّثَنَا حَمَّادُ بْنُ سَلَمَۃَ حَدَّثَنَا سِمَاکُ بْنُ حَرْبٍ عَنْ عَبْدِ اللَّہِ بْنِ شَدَّادِ بْنِ الْہَادِ عَنِ ابْنِ عُمَرَ قَالَ : کُنْتُ مَعَ عُمَرَ بْنِ الْخَطَّابِ رَضِیَ اللَّہُ عَنْہُ فِی حَجٍّ أَوْ عُمْرَۃٍ فَإِذَا نَحْنُ بِرَاکِبٍ فَقَالَ عُمَرُ رَضِیَ اللَّہُ عَنْہُ أَرَی ہَذَا یَطْلُبُنَا قَالَ فَجَائَ الرَّجُلُ فَبَکَی قَالَ : مَا شَأْنُکَ إِنْ کُنْتَ غَارٍمًا أَعَنَّاکَ وَإِنْ کُنْتَ خَائِفًا أَمَّنَّاکَ إِلاَّ أَنْ تَکُونَ قَتَلْتَ نَفْسًا فَتُقْتَلَ بِہَا وَإِنْ کُنْتَ کَرِہْتَ جِوَارَ قَوْمٍ حَوَّلْنَاکَ عَنْہُمْ؟ قَالَ إِنِّی شَرِبْتُ الْخَمْرَ وَأَنَا أَحَدُ بَنِی تَیْمٍ وَإِنَّ أَبَا مُوسَی جَلَدَنِی وَحَلَقَنِی وَسَوَّدَ وَجْہِی وَطَافَ بِی فِی النَّاسِ وَقَالَ : لاَ تُجَالِسُوہُ وَلاَ تُؤَاکِلُوہُ فَحَدَّثْتُ نَفْسِی بِإِحْدَی ثَلاَثٍ إِمَّا أَنْ أَتَّخِذَ سَیْفًا فَأَضْرِبَ بِہِ أَبَا مُوسَی وَإِمَّا أَنْ آتِیَکَ فَتُحَوِّلُنِی إِلَی الشَّامِ فَإِنَّہُمْ لاَ یَعْرِفُونَنِی وَإِمَّا أَنْ أَلْحَقَ بِالْعَدُوِّ وَآکُلَ مَعَہُمْ وَأَشْرَبَ ۔ قَالَ فَبَکَی عُمَرُ رَضِیَ اللَّہُ عَنْہُ وَقَالَ مَا یَسُرُّنِی أَنَّکَ فَعَلْتَ وَإِنَّ لِعُمَرَ کَذَا وَکَذَا وَإِنِّی کُنْتُ لأَشْرَبُ النَّاسِ لَہَا فِی الْجَاہِلِیَّۃِ وَإِنَّہَا لَیْسَتْ کَالزِّنَا وَکَتَبَ إِلَی أَبِی مُوسَی سَلاَمٌ عَلَیْکَ أَمَّا بَعْدُ فَإِنَّ فُلاَنَ بْنَ فُلاَنٍ التَّیْمِیَّ أَخْبَرَنِی بِکَذَا وَکَذَا وَایْمُ اللَّہِ لَئِنْ عُدْتَ لأَسُوِّدَنَّ وَجْہَکَ وَلأَطُوفَنَّ بِکَ فِی النَّاسِ فَإِنْ أَرَدْتَ أَنْ تَعْلَمَ حَقَّ مَا أَقُولُ لَکَ فَعُدْ فَأْمُرِ النَّاسَ أَنْ یُجَالِسُوہُ وَیُؤَاکِلُوہُ وَإِنْ تَابَ فَاقْبَلُوا شَہَادَتَہُ وَحَمَلَہُ وَأَعْطَاہُ مِائَتَیْ دِرْہَمٍ۔ فَأَخْبَرَ عُمَرُ رَضِیَ اللَّہُ عَنْہُ أَنَّ شَہَادَتَہُ تَسْقُطُ بِشُرْبِہِ الْخَمْرَ وَأَنَّہُ إِذَا تَابَ حِینَئِذٍ تُقْبَلُ شَہَادَتُہُ۔ قَالَ الشَّافِعِیُّ رَحِمَہُ اللَّہُ وَبَائِعُ الْخَمْرِ مَرْدُودُ الشَّہَادَۃِ لأَنَّہُ لاَ خِلاَفَ بَیْنَ أَحَدٍ مِنَ الْمُسْلِمِینَ فِی أَنَّ بَیْعَہَا مُحَرَّمٌ قَالَ الشَّیْخُ وَقَدْ مَضَتِ الدَّلاَلَۃُ عَلَی تَحْرِیمِ بَیْعِہَا مَعَ الإِجْمَاعِ فِی کِتَابِ الْبُیُوعِ۔ [ضعیف]
(٢٠٩٤٨) ابن عمر (رض) فرماتے ہیں کہ میں حجۃ الوداع میں عمر بن خطاب (رض) کے ساتھ تھا جب ہم سوار تھے۔ حضرت عمر (رض) نے فرمایا : میرا خیال ہے کہ وہ ہم سے مطالبہ کر رہے تھے، راوی فرماتے ہیں کہ ایک آدمی آیا ، وہ رو رہا تھا۔ پوچھا : تیری کیا حالت ہے اگر تو مقروض ہے تو ہم تیری مدد کریں گے۔ اگر تو ڈرتا ہے توہم تجھے پناہ دیں گے۔ اگر تو نے کسی جان کو قتل کیا تو قصاصاً قتل کردیا جائے گا، اگر تو اپنی قوم کے پڑوس کو ناپسند کرتا ہے تو ہم تجھے تبدیل کردیں گے۔ اس نے کہا : میں نے شراب پی ہے اور بنو تمیم کا آدمی ہوں۔ ابو موسیٰ نے مجھے کوڑے لگائے۔ گنجا کیا، چہرہ سیاہ کیا۔ اور لوگوں کا چکر لگوایا۔ اور کہا نہ تو ان کے ساتھ بیٹھے گا اور نہ ہی ان کے ساتھ کھائے گا تو میرے دل میں تینوں باتوں میں ایک آئی : 1 ابوسیٰ کو قتل کر دوں۔ 2 آپ مجھے شام منتقل کردیں وہاں مجھے کوئی نہیں جانتا ۔ 3 میں دشمن سے مل جاؤں ان کے ساتھ مل کر کھاؤں اور شراب پیا کروں۔ راوی کہتے ہیں کہ حضرت عمر (رض) رو پڑے اور کہنے لگے : جو تو نے کیا اس نے مجھے خوش کردیا اور بیشک عمر اسی طرح تھا۔ میں جاہلیت میں لوگوں کو شراب پلایا کرتا تھا۔ یہ زنا کی مانند نہیں ہے اور ابوموسیٰ کو خط لکھا۔ تجھ پر سلام ہو، فلاں بن فلاں شخص نے مجھے یہ خبر دی ہے۔ اللہ کی قسم ! اگر آپ نے آئندہ ایسا کیا تو میں تیرا چہرہ سیاہ کر کے لوگوں کا چکر لگواؤں گا۔ اگر تو سچ خیال کرتا ہے جو میں کہہ رہا ہوں تو لوگوں کو حکم دو کہ وہ آپس میں مل جل کر بیٹھیں اور ایک دوسرے کے ساتھ مل کر کھائیں۔ اگر وہ توبہ کرلے تو اس کی شہادت بھی قبول کرو اور ان کو دو سو درہم دے دو ۔ حضرت عمر (رض) نے خبر دی : شرابی کی شہادت مقبول نہیں جب تک وہ توبہ نہ کرے اور امام شافعی (رح) فرماتے ہیں کہ شراب فروخت کرنے والی کی شہادت بھی مردود ہے؛ کیونکہ مسلمانوں کے درمیان کوئی اختلاف نہیں کہ اس کی فروخت حرام ہے۔