(۲۰۹۶) أَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ الرَّحْمَنِ السُّلَمِیُّ وَأَبُو نَصْرِ بْنُ قَتَادَۃَ قَالاَ أَخْبَرَنَا أَبُو عَمْرِو بْنُ نُجَیْدٍ حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ إِبْرَاہِیمَ حَدَّثَنَا ابْنُ بُکَیْرٍ حَدَّثَنَا مَالِکٌ عَنْ ہِشَامِ بْنِ عُرْوَۃَ عَنْ أَبِیہِ: أَنَّ عُمَرَ بْنَ الْخَطَّابِ کَتَبَ إِلَی أَبِی مُوسَی الأَشْعَرِیِّ: أَنْ صَلِّ الْعَصْرَ وَالشَّمْسُ بَیْضَائُ نَقِیَّۃٌ قَدْرَ مَا یَسِیرُ الرَّاکِبُ ثَلاَثَۃَ فَرَاسِخَ ، وَأَنْ صَلِّ الْعَتَمَۃَ مَا بَیْنَکَ وَبَیْنَ ثُلُثِ اللَّیْلِ ، فَإِنْ أَخَّرْتَ فَإِلَی شَطْرِ اللَّیْلِ وَلاَ تَکُنْ مِنَ الْغَافِلِینَ۔ قَالَ وَحَدَّثَنَا مَالِکٌ عَنْ نَافِعٍ مَوْلَی عَبْدِ اللَّہِ بْنِ عُمَرَ: أَنَّ عُمَرَ بْنَ الْخَطَّابِ رَضِیَ اللَّہُ عَنْہُ کَتَبَ إِلَی عُمَّالِہِ: إِنَّ أَہَمَّ أَمْرِکُمْ عِنْدِی الصَّلاَۃُ ، مَنْ حَفِظَہَا أَوْ حَافَظَ عَلَیْہَا حَفِظَ دِینَہُ ، وَمَنْ ضَیَّعَہَا فَہُوَ لِمَا سِوَاہَا أَضْیَعُ ، ثُمَّ کَتَبَ: أَنْ صَلُّوا الظُّہْرَ إِذَا کَانَ الْفَیْئُ ذِرَاعًا إِلَی أَنْ یَکُونَ ظِلُّ کُلِّ شَیْئٍ مِثْلَہُ ، وَالْعَصْرَ وَالشَّمْسُ بَیْضَائُ نَقِیَّۃٌ قَدْرَ مَا یَسِیرُ الرَّاکِبُ فَرْسَخَیْنِ أَوْ ثَلاَثَۃً وَالْمَغْرِبَ إِذَا غَرَبَتِ الشَّمْسُ ، وَالْعِشَائَ إِذَا غَابَ الشَّفَقُ إِلَی ثُلُثِ اللَّیْلِ ، فَمَنْ نَامَ فَلاَ نَامَتْ عَیْنُہُ ، فَمَنْ نَامَ فَلاَ نَامَتْ عَیْنُہُ فَمَنْ نَامَ فَلاَ نَامَتْ عَیْنُہُ ، وَالصُّبْحَ وَالنُّجُومُ بَادِیَۃٌ مُشْتَبِکَۃٌ ، فَمَنْ نَامَ فَلاَ نَامَتْ عَیْنُہُ۔ [صحیح لغیرہ۔ اخرجہ مالک ۸]
(٢٠٩٦) ہشام بن عروہ اپنے والد سے روایت کرتے ہیں کہ عمر بن خطاب (رض) نے ابو موسیٰ اشعری (رض) کی طرف خط لکھا کہ ” عصر کی نماز ایسے وقت میں پڑھو جب سورج سفید اور روشن ہو اور پیدل چلنے والا تین فرسخ کا سفر طے کرلے اور عشا کی نماز تہائی رات کو پڑھو۔ اگر موخر کرو تو آدھی رات تک موخر کرلینا لیکن غافلوں میں سے نہ ہونا۔ راوی فرماتے ہیں کہ ہمیں مالک نے عبداللہ بن عمر (رض) کے آزاد کردہ غلام نافع کے واسطے سے حدیث بیان کی ہے کہ حضرت عمر بن خطاب (رض) نے اپنے گورنروں کو لکھا کہ تمہارے معاملات اور امور میں سے سب سے اہم فریضہ میرے نزدیک نماز ہے۔ جس نے اس پر محافظت کی تو اس نے اپنا دین بچا لیا اور جس نے اس کو ضائع کیا تو وہ اس کے علاوہ دوسرے امور کو زیادہ ضائع کرنے والا ہے۔ پھر لکھا کہ ظہر کی نماز کو اس وقت ادا کرو جب سایہ ایک بازو سے ایک مثل تک ہو اور عصر کا وقت اس وقت ہے جب سورج بالکل سفید چمک رہا ہو (غروب آفتاب میں اتنا فاصلہ ہو کہ آدمی دو یا تین فرسخ طے کرلے) اور مغرب کا وقت جب سورج غروب ہو اور عشا کا وقت سفیدی غائب ہونے سے تہائی رات تک ہے، (یعنی ان اوقات میں نمازوں کو ادا کرلیا کرو) اور جو سو جائے تو اس کی آنکھ نہ سوئے۔ تین بار فرمایا اور صبح کی نماز ایسے وقت میں ادا کرو کہ ستارے ابھی ظاہر ہوں اور جو سو جائے اس آنکھ نہ سونے پائے۔