(۲۰۹۷) أَخْبَرَنَا أَبُو الْحَسَنِ عَلِیُّ بْنُ مُحَمَّدٍ الْمُقْرِئُ أَخْبَرَنَا الْحَسَنُ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ إِسْحَاقَ أَخْبَرَنَا یُوسُفُ بْنُ یَعْقُوبَ حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ أَبِی بَکْرٍ حَدَّثَنَا یَحْیَی بْنُ سَعِیدٍ عَنْ زِیَادِ بْنِ لاَحِقٍ قَالَ حَدَّثَتْنِی تَمِیمَۃُ بِنْتُ سَلَمَۃَ: أَنَّہَا أَتَتْ عَائِشَۃَ فِی نِسْوَۃٍ مِنْ أَہْلِ الْکُوفَۃِ فَقُلْنَا: یَا أُمَّ الْمُؤْمِنِینَ نَسْأَلُکِ عَنْ مَوَاقِیتِ الصَّلَوَاتِ۔ قَالَتِ: اجْلِسْنَ فَجَلَسْنَا ، فَلَمَّا کَانَتِ السَّاعَۃُ الَّتِی تَدْعُونَہَا نِصْفَ النَّہَارِ قَامَتْ ، فَصَلَّتْ بِنَا وَہِیَ قَائِمَۃٌ وَسَطَنَا ، فَلَمَّا انْصَرَفَتْ قُلْتُ لَہَا: یَا أُمَّ الْمُؤْمِنِینَ إِنَّا نَدْعُو ہَذِہِ فِی بِلاَدِنَا نِصْفَ النَّہَارِ۔ قَالَتْ: ہَذِہِ صَلاَتُنَا آلَ مُحَمَّدٍ -ﷺ- ثُمَّ جَلَسْنَا ، فَلَمَّا کَانَتِ السَّاعَۃُ الَّتِی تَدْعُونَہَا بَیْنَ الصَّلاَتَیْنِ صَلَّتْ بِنَا الْعَصْرَ ، فَقُلْنَا لَہَا: یَا أُمَّ الْمُؤْمِنِینَ إِنَّا نَدْعُو ہَذِہِ فِی بِلاَدِنَا بَیْنَ الصَّلاَتَیْنِ۔ قَالَتْ: ہَذِہِ صَلاَتُنَا آلَ مُحَمَّدٍ -ﷺ- إِنَّا آلَ مُحَمَّدٍ لاَ نُصَلِّی الصَّفْرَائَ ۔ قَالَتْ: ثُمَّ جَلَسْنَا ، فَلَوْ کَانَ غَیْرُ عَائِشَۃَ لَظَنَنَّا أَنَّہَا قَدْ صَلَّتِ الْمَغْرِبَ قَبْلَ أَنَ تَجِبَ ، وَلَکِنْ قَدْ عَرَفْتُ أَنَّ عَائِشَۃَ لاَ تُصَلِّی إِلاَّ عِنْدَ الْوَقْتِ حِینَ وَجَبَتْ ، وَجَہَرَتْ بِالْقِرَائَ ۃِ فِی الْمَغْرِبِ ، وَاسْتَأْذَنَ عَلَیْہَا نِسْوَۃٌ مِنْ أَہْلِ الشَّامِ فَقَالَتْ: لاَ تَأْذَنِی لَہُنَّ صَوَاحِبَ الْحَمَّامَاتِ۔ [ضعیف]
(٢٠٩٧) زیاد بن لاحق سے روایت ہے کہ مجھے تمیمہ بنت سلمہ نے بتلایا کہ وہ اہل کوفہ کی عورتوں کے ہمراہ سیدہ عائشہ (رض) کی خدمت میں حاضر ہوئیں۔ ہم نے عرض کیا : اے ام المومنین ! ہم آپ سے اوقات نماز کے بارے پوچھنا چاہتی ہیں۔ آپ نے فرمایا : بیٹھ جاؤ۔ ہم بیٹھ گئیں۔ جب دوپہر کا وقت ہوا تو سیدہ عائشہ (رض) کھڑی ہوئیں۔ انھوں نے ہمیں نماز پڑھائی۔ وہ ہماری صف کے درمیان کھڑی ہوئیں۔ جب ہم نماز سے فارغ ہوئیں تو میں نے عرض کیا : اے ام المومنین ! ہمارے ہاں اس وقت کو دوپہر کہتے ہیں تو انھوں نے فرمایا کہ یہ ہم آل محمد (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کی نماز ہے۔ پھر ہم بیٹھ گئیں، پھر جب سہ پہر کا وقت ہوا تو انھوں نے ہمیں عصر کی نماز پڑھائی۔ ہم نے کہا : اے ام المومنین ! ہمارے شہروں میں اس وقت کو سہ پہر کہتے ہیں۔ وہ فرمانے لگیں : یہ ہم آل محمد (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کی نماز ہے اور ہم سورج زرد ہونے کے بعد نماز نہیں پڑھتے۔ ہم پھر بیٹھ گئیں۔ اگر عائشہ (رض) کے علاوہ کوئی اور ہوتیں تو شاید ہم یقین کرلیتیں کہ وہ مغرب کی نماز غروب آفتاب سے پہلے ہی پڑھا دیں گی۔ لیکن ہمیں معلوم ہوگیا کہ حضرت عائشہ (رض) نے اسی وقت نماز پڑھی جب وقت ہوا ( غروب آفتاب کے بعد) اور مغرب میں قرا ئت بھی جہری کی۔
ان سے اہل شام کی کچھ عورتوں نے (اندر آنے کی) اجازت طلب کی تو عائشہ (رض) نے فرمایا : ان کبوتروں والیوں کو اجازت نہ دینا۔