(۲۰۹۷۰) أَخْبَرَنَا أَبُو الْحَسَنِ مُحَمَّدُ بْنُ أَبِی الْمَعْرُوفِ الْفَقِیہُ الإِسْفَرَائِینِیُّ بِہَا أَنْبَأَنَا أَبُو عَمْرٍو إِسْمَاعِیلُ بْنُ نُجَیْدٍ أَنْبَأَنَا أَبُو مُسْلِمٍ حَدَّثَنَا أَبُو عَاصِمٍ عَنْ یَزِیدَ بْنِ أَبِی عُبَیْدٍ عَنْ سَلَمَۃَ بْنِ الأَکْوَعِ : أَنَّہُ کَانَ یَنْہَی بَنِیہِ عَنْ لَعِبِ الأَرْبَعَ عَشْرَۃَ فَقِیلَ لَہُ تَنْہَاہُمْ۔ قَالَ إِنَّہُمْ یَحْلِفُونَ وَیَکْذِبُونَ
وَرُوِّینَا عَنْ أُمِّ سَلَمَۃَ أَنَّہَا کَرِہَتْہَا۔
قَالَ الشَّافِعِیُّ رَحِمَہُ اللَّہُ : وَمَنْ لَعِبَ بِشَیْئٍ مِنْ ہَذَا عَلَی الاِسْتِحْلاَلِ لَہُ لَمْ تُرَدُّ شَہَادَتُہُ
قَالَ الشَّیْخُ رَحِمَہُ اللَّہُ وَہَذَا لِلاِخْتِلاَفِ فِیہِ أَوْ فِی بَعْضِہِ۔ [صحیح]
(٢٠٩٧٠) سلمہ بن اکوع اپنے بیٹوں کو کھیلوں سے منع فرماتے۔ پوچھا : منع کیوں کرتے ہو ؟ تو وہ فرمانے لگے کہ یہ قسمیں اٹھاتے اور جھوٹ بولتے ہیں۔
امام شافعی (رح) فرماتے ہیں : جائز حلال کھیل کو کھیلنے والے کی شہادت رد نہ کی جائے گی۔